اسلام آباد(13 فروری 2026): وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کی صحت پر سیاست نہ کی جائے، غفلت ہوئی تو ذمہ داروں کے خلاف کارروائی ہوگی۔
وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے بانی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق تفصیلی مؤقف پیش کیا اور کہا ہے کہ اگر اکتوبر سے آنکھ کی تکلیف موجود تھی اور اس کا بروقت علاج نہیں کیا گیا تو اسے مجرمانہ غفلت تصور کیا جائے گا اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔ تاہم ان کے مطابق دستیاب حقائق پاکستان تحریک انصاف کے مؤقف کے برعکس ہیں۔
انہوں نے کہا کہ 2 دسمبر کو بانی پی ٹی آئی کی بہن کی ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو میں آنکھ کی تکلیف کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا بلکہ صحت بہتر ہونے کا بیان دیا گیا، جو ریکارڈ پر موجود ہے۔
طارق فضل چوہدری کا کہنا تھا کہ جیل میں موجود کسی بھی قیدی کی صحت کی ذمہ داری متعلقہ حکومت پر عائد ہوتی ہے۔ اڈیالہ جیل چونکہ پنجاب حکومت کے دائرہ اختیار میں ہے، اس لیے اگر کسی قسم کی غفلت ثابت ہوئی تو حکومت ذمہ داری قبول کرے گی۔
انہوں نے واضح کیا کہ عمران خان سے کوئی ذاتی دشمنی نہیں، صرف سیاسی اختلاف ہے، نو دسمبر کو میڈیکل بورڈ تشکیل دیا گیا جبکہ 16 جنوری کو انہیں پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) منتقل کرنے کی سفارش کی گئی، جو حکومتی فیصلہ تھا، نہ کہ پاکستان تحریک انصاف کی درخواست پر۔
ان کے مطابق 24 جنوری کو آنکھ میں انجیکشن بھی لگایا گیا اور تمام کارروائی ریکارڈ کا حصہ ہے، سپریم کورٹ آف پاکستان کی ہدایت پر وکیل کو ملاقات کی اجازت دی گئی اور جہاں عدالت ہدایت دے گی وہاں معائنہ کرایا جائے گا۔
طارق فضل چوہدری نے کہا کہ اگر ضرورت پڑی تو الشفا انٹرنیشنل اسپتال یا کسی بھی ماہر ڈاکٹر سے معائنہ کرانے پر آمادگی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ صحت جیسے حساس معاملے پر سیاست نہیں ہونی چاہیے اور اگر کسی مرحلے پر کوتاہی ثابت ہوئی تو اس کا اعتراف کیا جائے گا۔


