اسلام آباد (2 اکتوبر 2025): اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس طارق محمود جہانگیری نے ڈگری کے معاملے پر سندھ ہائیکورٹ کا فیصلہ چیلنج کر دیا۔
جسٹس طارق محمود جہانگیری نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی جس میں انہوں نے سندھ ہائیکورٹ کا 25 ستمبر کا فیصلہ کالعدم قرار دینے کی استدعا کی۔
درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ سندھ ہائیکورٹ نے کیس میں فریق بننے کی درخواست خارج کی، متاثرہ فریق کو سنے بغیر یکطرفہ فیصلہ خلافِ قانون ہے، سندھ ہائیکورٹ نے درخواست قابل سماعت ہونے کا معاملہ بھی نظر انداز کیا۔
یہ بھی پڑھیں: جسٹس طارق محمود جہانگیری کو کام سے روکنے کا حکم معطل
25 ستمبر 2025 کو سندھ ہائیکورٹ نے جسٹس طارق محمود جہانگیری کی ڈگری سے متعلق تمام درخواستیں خارج کر دی تھیں۔
انہوں نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ میں نے اس کیس میں فریق بننے کی درخواست دائر کی ہے، مجھے کبھی کراچی یونیورسٹی کی جانب سے کوئی نوٹس جاری نہیں کیا گیا ہے، اس پر چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ کے کے آغا کا کہنا تھا کہ ہم پہلے درخواست کے قابل سماعت ہونے کا معاملہ دیکھیں گے۔
جسٹس طارق محمود جہانگیری نے کہا تھا کہ میں اس کیس میں متاثرہ فریق ہوں تو جسٹس کے کے آغا نے پوچھا کہ جس نے کیس فائل کیا ہے وہ وکلاء کہاں ہیں؟
فیصل صدیقی ایڈووکیٹ نے بتایا تھا کہ متاثرہ شخص کو شامل کیے بغیر کیسے درخواست قابل سماعت ہونے کا فیصلہ کیا جا سکتا ہے؟
جسٹس طارق محمود جہانگیری نے کہا تھا کہ پہلی بار ہائیکورٹ کا جج ملزم کی طرح کٹہرے میں کھڑا ہے، میرا جرم حلف سے وفاداری بنا دیا ہے وعدہ کیا تھا کہ حلف سے بے وفائی نہیں کروں، میری ڈگری اصلی ہے امتحان میں بھی بیٹھا تھا، 34 برس بعد جعل سازی کر کے ڈگری متنازع بنا دی گئی، میرے خلاف کرپشن کا الزام نہیں ہے، میں نے کسی نے کہنے پر فیصلے نہیں کئے مجھے کم از کم موقع دیا جائے بھلے میرے خلاف فیصلہ دیں لیکن سماعت کو موقع دیا جانا چاہیے۔
بیرسٹر صلاح الدین اور دیگر وکلاء نے بینچ کی تشکیل پر اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا تھا کہ یہ کیس دوسرے بینچ میں مقرر تھا جسے اچانک منتقل کر کے سماعت کیلیے لگایا گیا ہے جو شکوک و شبہات کو جنم دیتا ہے۔
انہوں نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ آئینی بینچ اس کیس کی سماعت نہیں کر سکتا اور درخواست کے قابل سماعت ہونے سے پہلے بینچ کی تشکیل پر فیصلہ ہونا چاہیے۔
ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے مؤقف اپنایا تھا کہ یہ درخواست نمٹا دی گئی ہے، اگر کوئی متاثر ہے تو اپیل فائل کرے، جامعہ کراچی کے وکیل نے بھی کہا کہ درخواست کے قابل سماعت ہونے پر جوڈیشل آرڈر موجود ہے۔
دوران سماعت وکلاء نے شدید احتجاج کرتے ہوئے کارروائی کا بائیکاٹ کیا اور کمرہ عدالت چھوڑ گئے، جس پر عدالت نے تمام درخواستیں عدم پیروی پر خارج کر دیں۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


