The news is by your side.

Advertisement

خیرات اور فلاحی کاموں پر ٹیکس، ایف بی آر نے تجاویز مانگ لیں

اسلام آباد : عوام پر ٹیکسوں کی بھر مار کے بعد اب حکومت نظریں خیرات اور فیاضی کے کاموں پر لگ گئی ہیں،اب خیرات دینے پر بھی ٹیکس دینا پڑسکتا ہے۔

تفصیلات کے مطابق حکومت نے خیرات، صدقات اور ڈونیشن پر ٹیکس لگانے کی تجاویز طلب کرلیں ہیں، پاکستانی قوم سالانہ ڈھائی کھرب روپے خیرات، صدقات اور ڈونیشن کی مد میں دیتی ہے۔


پاکستانی سالانہ 2.5 کھرب روپے خیرات،صدقات دیتے ہیں سیکٹر کو ریگیولیٹ کرنا لازمی ہے، ایف بی آر


ایف بی آر کے ترجمان کا کہنا ہے کہ فیاضی کے کاموں پر ٹیکس لگانے اور ان کو ریگیولیٹ کرنے کیلئے تجاوز درکار ہیں، سیکٹر کو ریگیولیٹ کرنا لازمی ہے۔

ہر سال کی طرح رواں مالی سال بھی حکومت کی ٹیکس وصولی ہدف سے کم ہے اور اب ٹیکس وصولی میں اضافہ اور ریگیولیشن کیلئے کوئی اور نہیں سیکٹر نہیں ملا تو حکومت کی نظر خیرات اور فلاحی کاموں کےلئے دی جانے والی خطیررقم پر ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ فلاحی کاموں کے لئے رقم دینے پر ٹیکس لگانے سے ان سرگرمیوں پر منفی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں، اگر ٹیکس لگانا ہی ہے تو جاگیرداروں، زراعت اور دیگر شعبوں پر لگایا جائے، اس کے برعکس موجودہ دورے حکومت میں تین ٹیکس ایمنسٹی اسکیموں کا اعلان کیا گیا۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں