site
stats
پاکستان

طیبہ تشدد کیس: بچی کی دادی نے اغواء کے مقدمہ کیلئے درخواست دیدی

اسلام آباد : کمسن ملازمہ طیبہ تشدد کیس میں ایک اور نیا موڑ آگیا، مذکورہ بچی تاحال نہ مل سکی، طیبہ کی دادی ہونے کی دعویدار خاتون تھانہ مارگلہ پہنچ گئیں، اس سے قبل پولیس نے بچی کی پھوپھی کو بھی حراست میں لے لیا۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد کے تھانہ مارگلہ میں طیبہ کی دادی ہونے کی دعویدار خاتون نے بچی کے اغواء کا مقدمہ درج کرنے کی درخواست جمع کرائی ہے جس میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر،ایس ایس پی،مجسٹریٹ نشااشتیاق سمیت دیگرافراد نامزد کیا گیا ہے۔

خاتون کا کہنا ہے کہ میں کراچی میں رہتی ہوں، میڈیا کے ذریعے طیبہ سے متعلق خبر ملی۔ انہوں نے کہا کہ ہماری بچی اغواء کرلی گئی اورچھاپے بھی ہمارے گھروں پر مارے جارہے ہیں، دادی نے الزام عائد کیا کہ اغواء میں ضلعی انتظامیہ اورپولیس افسران بھی شامل ہیں۔

دوسری جانب طیبہ کی تلاش پولیس کے لیے چیلنج بن گئی، چار دن گزر گئے جج کے گھرمیں مبینہ تشدد کا نشانہ بننے والی طیبہ کا تاحال کچھ پتہ نہ چل سکا۔ پولیس نے پوچھ گچھ کیلئے طیبہ کی پھوپھی کو حراست میں لے لیا ہے جبکہ جڑانوالہ میں اس کے مبینہ آبائی گھر پرتالا پڑا ہوا ہے۔

واضح رہے کہ ملازمہ بچی کوایک حاضر سروس جج کے گھر مبینہ تشدد کانشانہ بنایا گیا، چیف جسٹس سپریم کورٹ نے ازخود نوٹس لیا اور بچی کو عدالت لانے کا حکم دیا لیکن پولیس طیبہ کو اب تک پیش نہ کرسکی۔

مزید پڑھیں : طیبہ تشدد کیس: ایک اور جوڑا والدین ہونے کا دعویدار، ڈی این اے ٹیسٹ لے لیا گیا

اسلام آباد میں بدترین تشدد کا نشانہ بننے والی طیبہ کو آسمان نگل گیا یا زمین کھا گئی۔ سپریم کورٹ کے از خود نوٹس کے بعد پولیس کم سن طیبہ کی تلاش میں چھاپے ماررہی ہے لیکن طیبہ کو بازیاب کرانےمیں کامیاب ابھی تک نہیں ہوسکی ہے۔

طیبہ کو غائب ہوئے چار روز ہوچکے ہیں۔ بچی کے والدین ہونے کےبھی دو دعویدار سامنےآچکے ہیں۔ اصل کا پتہ لگانے کے لیے اسپتال میں ڈی این اے ٹیسٹ کے نمونے بھی لئے گئے۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top