The news is by your side.

Advertisement

طیبہ نے اپنے والدین کو شناخت کر لیا

اسلام‌آباد : جج کےگھرتشدد کا شکار ہونے والی کم سن ملازمہ طیبہ نے اپنے والدین کوشناخت کرلیا ہے، تاہم ڈی این اے ٹیسٹ کی رپورٹ آنے کے بعد ہی طیبہ کو والدین کے حوالے کیا جائے گا۔

تفصیلات کے مطابق میڈیکل بورڈ کی میٹنگ خوف زدہ اور سہمی ہوئی کم سن طیبہ نے اپنے والد اعظم اور والدہ نصرت کو شناخت کر لیا ہے اور ان سے لپٹ کر بلک بلک کر رونے لگی تا ہم ڈی این اے ٹیسٹ کی رپورٹ آنے کے بعد ہی طیبہ کو اس کے حقیقی والدین کے حوالے کیا جائے گا۔


*کمسن ملازمہ طیبہ کوچارروزبعد بازیاب کرالیا گیا


واضح رہے کہ کم سن ملازمہ پر تشدد کیس میڈیا میں اجاگر ہونے کے بعد سے اب تک تین مختلف جوڑے طیبہ کے والدین ہونے کا دعویٰ کر چکے ہیں جب کہ ایک خاتون نے دادی ہونے کا دعوی بھی کر رکھا ہے جس کے بعد ڈی این اے ٹیسٹ کرانے کا فیصلہ ہوا تھا۔


*طیبہ تشدد کیس، سماعت کل سپریم کورٹ میں ہو گی


قبل ازیں میڈیکل بورڈمیں شامل ماہر نفسیات نےطیبہ سے متعدد سوالات کیے جس کے جواب میں طیبہ نے اپنا نام، والدین کے نام اور رہائش گاہ کے بارے میں درست معلومات فراہم کیں جس کے بعد ماہر نفسیات نے طیبہ کی ذہنی حالت کو تسلی بخش قرار دیا۔


*طیبہ تشدد کیس: ایک اور جوڑا والدین ہونے کا دعویدار، ڈی این اے ٹیسٹ لے لیا گیا


دریں اثناء میڈیکل بورڈ نے طیبہ کی معائنہ رپورٹ ضلعی انتظامیہ کے حوالے کردیا ہے جس کو بدھ کے روز سپریم کورٹ جمع کرایا جائےگا جہاں اس کیس کی سماعت ہو گی۔


*طیبہ تشدد کیس: کمسن ملازمہ کا میڈیکل چیک اپ مکمل


طبی رپورٹ میں تفصیلی طور پر درج ہے کہ طیبہ کے جسم پرگیارہ بڑے اور درجن سے زائد چھوٹے زخم ہیں اس کے علاوہ کم سن طیبہ کی کمر پر استری سے جلائے جانے کے دس نشانات بھی ہیں اور اُس کی دائیں آنکھ اور کنپٹی پر بھی تشدد کے گہرے زخم موجود ہیں۔

واضح رہے چند روزس قبل سیشن ایڈیشنل جج کے گھر کام کرنے والی کم سن ملازمہ طیبہ پر مبینہ تشدد کی اطلاعات ملی تھیں جس کے بعد سپریم کورٹ نے از خود نوٹس لیتے ہوئے اس مقدمے کی سماعت کا باقاعدہ آغاز کیا تھا۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں