site
stats
پاکستان

سپریم کورٹ نے طیبہ تشدد کیس اسلام آباد ہائیکورٹ بھجوادیا

اسلام آباد: طیبہ تشدد کیس کی کارروائی کے دوران چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ جن بچوں کےوالدین نہ ہوں ان کی عدالت سرپرست ہوتی ہیں ،منتقہ رائے کے بعد سپریم کورٹ نے طیبہ تشدد کیس اسلام آباد ہائیکورٹ بھجوادیا گیا.

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ نےطیبہ تشدد کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس ثاقب نثار نے انسانی حقوق کی سرگرم رکن اور معروف وکیل عاصمہ جہانگیر سے پوچھا کہ آپ کیاکہتی ہیں طیبہ تشدد کیس کی مزید کاروائی کسی اور کورٹ میں بھیجی جاسکتی ہے یا نہیں ؟ جس پر عاصمہ جہانگیر نے جواب دیا کہ سی آرپی سی قانون کی شق 526 کے تحت کیس منتقل ہوسکتاہے.

متفقہ رائے کے بعد سپریم کورٹ نے طیبہ تشدد کیس اسلام آباد ہائیکورٹ بھجوادیا گیا.چیف جسٹس نے کہا کہ جن بچوں کےوالدین نہ ہوں انکی عدالت سرپرست ہوتی ہیں.

کارروائی کے دوران چیف جسٹس نے ایڈووکیٹ جنرل سے استفار کیا کہ کیس کا چالان تاحال جمع کیوں نہیں ہوسکا ، جس پر ایڈووکیٹ جنرل نے یقین دھانی کروائی کہ چالان آج جمع ہوجائے گا،ایڈوکیٹ جنرل میاں رؤف کا کہنا تھا کہ چالان پیش کرنے میں‌ تاخیرکا سبب ضمانت قبل ازگرفتاری ہے.

وکیل الیاس صدیقی نے کہا کہ طیبہ کےوالدین بچی کی حوالگی چاہتےہیں جس پر چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ اس صورتحال میں بچی والدین کےحوالےنہیں کرسکتے، ثاقب نثار نے کہا کہ سپریم کورٹ کے احکامات کے مطابق طیبہ ابھی ہوم سویٹ ہوم میں ہی رہے گی اگر والدین چاہیں توبیٹی سے سویٹ ہوم میں ملاقات کرسکتےہیں

بعدازاں سپریم کورٹ نے کیس کی سماعت 2ہفتے کےلئے ملتوی کردی گئی.

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top