The news is by your side.

Advertisement

طیبہ تشدد کیس: ایک اور جوڑا والدین ہونے کا دعویدار، ڈی این اے ٹیسٹ لے لیا گیا

اسلام آباد: ایڈیشنل جج کے گھر مبینہ تشدد کا نشانہ بننے والی طیبہ کی کہانی میں نیا موڑ سامنے آگیا۔ ایک اور جوڑے نے طیبہ کے والدین ہونے کا دعویٰ کردیا۔ دعویدار والدین کے ڈی این اے نمونے لے لیے گئے۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد کے ایڈیشنل جج کے گھر مبینہ تشدد کا نشانہ بننے والی طیبہ کا کیس سپریم کورٹ میں زیر سماعت تھا کہ کیس کے دوران ایک نیا جوڑا سپریم کورٹ پہنچ گیا۔ والد ہونے کے دعویدار ظفر کا کہنا ہے کہ بچی ڈیڑھ سال پہلے گم ہوئی تھی۔

ظفر کا کہنا ہے کہ اس نے اپنی بیٹی کو فیصل آباد کی ایک کوٹھی پر 34 ہزار روپے سالانہ پر ملازم رکھوایا تھا۔ بعد میں کوٹھی مالکان نے بتایا کہ ہماری بچی کو اسلام آباد بھیج دیا گیا ہے۔ دوبارہ معلوم کرنے پر بتایا گیا کہ بچی گم ہوگئی ہے۔

والدہ کا دعویٰ کرنے والی خاتون کا کہنا ہے کہ ٹی وی پر دیکھ کر اپنی بیٹی کو پہچانا ہے۔

دوسری جانب ننھی طیبہ پر تشدد کے از خود نوٹس کی سماعت کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے 3 دن میں تحقیقاتی رپورٹ طلب کرلی۔

مزید پڑھیں: کمسن ملازمہ پر تشدد ۔ بچی کے والدین نے راضی نامہ کرلیا

چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے ڈی آئی جی اسلام آباد کو ہدایت کی کہ سچ سامنے لایا جائے۔ عدالت نے اسلام آباد پولیس کی صلاحیتوں پر مکمل اعتماد کرتے ہوئے ڈی آئی جی اسلام آباد کو اپنی سربراہی میں تحقیقاتی کمیٹی بنانے کا حکم دیا۔ عدالت نے اسسٹنٹ کمشنر پوٹھو ہار کو بھی آئندہ سماعت پر بلا لیا۔

سپریم کورٹ نے بدھ کے روز طیبہ اور اس کے حقیقی والدین کو بھی عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا۔ عدالت نے حکم دیا کہ بچی کا جلد طبی معائنہ کروایا جائے تاکہ ثبوت ضائع نہ ہوں۔

سپریم کورٹ کے بینچ نے مذکورہ دعوے دار والدین کے ڈی این اے ٹیسٹ کا حکم، اور جج کی اہلیہ ماہین ظفر کو جواب جمع کروانے کی مہلت دیتے ہوئے سماعت بدھ تک ملتوی کردی۔

بعد ازاں بچی کے دعویدار والدین کے ڈی این اے نمونے لے لیے گئے۔ والدین کے شناختی کارڈ اور تصاویر بھی لی گئیں ہیں جن کی نادرا سے شناخت کروائی جائے گی۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں