The news is by your side.

Advertisement

طیبہ تشدد کیس: سپریم کورٹ کا ماتحت عدالت میں ٹرائل روکنے کا حکم

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے ماتحت عدالت میں طیبہ تشدد کیس کا ٹرائل روکنے کا حکم دیتے ہوئے مقدمہ ہائی کورٹ میں بھجوا دیا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ معاملے کا پندرہ روز میں خود جائزہ لے۔ مقدمے کو راستے میں نہیں چھوڑیں گے۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ آف پاکستان میں طیبہ تشدد کیس کی سماعت ہوئی۔ کیس کی سماعت چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں عدالت عظمیٰ کے تین رکنی بنچ نے کی۔

چیف جسٹس نے کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ معاملے کا 15 روز میں خود جائزہ لے، اور کیس منتقلی سے متعلق واضح حکم جاری کرے۔ طیبہ کی حوالگی سے متعلق فیصلہ اگلی سماعت پر کریں گے۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ بہتر ہوگا بچی کو ایس او ایس ویلج بھجوا دیا جائے۔

انہوں نے مزید کہا کہ مقدمے کو ادھورا نہیں چھوڑیں گے، قانون کی تشریح کر کے وسعت بڑھا سکتے ہیں، یہ معاشرتی مسئلہ ہے۔ جن قانونی نکات کو اٹھایا گیا ہے انہیں منطقی انجام تک پہنچائیں گے۔

واضح رہے کہ کچھ عرصہ قبل کم سن گھریلو ملازمہ طیبہ پر بہیمانہ تشدد کا معاملہ سامنے آیا تھا جس کا ذمہ دار بچی کی مالکن اور ایڈیشنل سیشن جج کی اہلیہ ماہین ظفر کو قرار دیا گیا تھا۔

طیبہ کے والدین کی جانب سے راضی نامہ سامنے آنے کے بعد مقدمہ دم توڑتا نظر آرہا تھا کہ چیف جسٹس کے سوموٹو ایکشن نے اس مقدمے کو دوبارہ سے کھول دیا۔

سپریم کورٹ کے حکم پر بننے والے میڈیکل بورڈ نے طیبہ پر تشدد کی تصدیق کرتے ہوئے بچی کو سوئیٹ ہوم بھجوانے کی تجویز دی تھی جبکہ طیبہ کے 22 سے زائد والدین ہونے کے دعویداروں کے سامنے آنے پر ان کے ڈی این اے ٹیسٹ بھی کیے گئے جس کے بعد طیبہ اپنے حقیقی والدین سے مل پائی تھی۔

بعد ازاں کیس میں نامزد ملزم راجا خرم کو عبوری ضمانت پر رہا کردیا گیا۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں