جمعرات, فروری 19, 2026
اشتہار

کھانے کے بعد چائے؟ ماہرین کی چونکا دینے والی تحقیق

اشتہار

حیرت انگیز

چائے پاکستان سمیت دنیا بھر میں شوق سے پی جاتی ہے, بہت سے لوگ دن کی شروعات چائے سے کرتے ہیں اور کچھ کے لیے کھانے کے بعد چائے پینا معمول بن چکا ہے۔

مگر حالیہ طبی تحقیق بتاتی ہے کہ کھانے کے بعد چائے عادت صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔ کیونکہ اس عمل کے تقصانات فوائد سے زیادہ ہیں۔

ماہرینِ صحت کے مطابق کھانے کے فوراً بعد، خاص طور پر چاول یا بھاری غذا کے بعد چائے پینے سے نظامِ ہاضمہ متاثر ہوتا ہے۔ چائے میں موجود کیفین اور ٹینن غذائی اجزاء کے جذب کو سست کر دیتے ہیں، جس سے بدہضمی، تیزابیت اور پیٹ درد جیسے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔

چائے میں موجود فاسفورک ایسڈ ہڈیوں کی صحت کے لیے نقصان دہ ہے۔ کیفین بلڈ پریشر کو بڑھاتی ہے۔ مزید برآں، کھانے کے بعد چائے پینا بھی نیند کے مسائل کا باعث بن سکتا ہے۔

نیشنل لائبریری آف میڈیسن نے متعدد مطالعات کے ساتھ یہ انکشاف کیا ہے کہ بہت زیادہ چائے اور کافی پینا ذیابیطس کا باعث بن سکتا ہے۔ ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ باقاعدگی سے سافٹ ڈرنکس پینے سے وزن بڑھ سکتا ہے۔

ذیابیطس کے مریضوں کے لیے یہ عادت مزید خطرناک ہو سکتی ہے، کیونکہ کھانے کے بعد چائے پینے سے خون میں شکر کی سطح بڑھنے کا امکان ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ کیفین بلڈ پریشر میں اضافے اور نیند کی خرابی کا سبب بھی بن سکتی ہے۔

تحقیقی رپورٹس کے مطابق زیادہ مقدار میں میٹھی چائے، کافی اور سافٹ ڈرنکس کا استعمال موٹاپے اور ٹائپ ٹو ذیابیطس کے خطرات بڑھا دیتا ہے۔ ان مشروبات میں شامل چینی (سوکروز) جگر، پٹھوں اور آنتوں پر منفی اثر ڈالتی ہے۔

ماہرین کا مشورہ ہے کہ کھانے کے کم از کم 30 سے 45 منٹ بعد چائے پی جائے۔ چائے اور کافی بغیر چینی استعمال کی جائیں اور سافٹ ڈرنکس سے حتی الامکان پرہیز کیا جائے۔

چائے بنانے اور پینے کا صحیح طریقہ کیا ہے، ماہر غذائیت نے راز کی بات بتا دی

+ posts

اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں