The news is by your side.

Advertisement

عوامی باتھ روم میں پستول بھولنے پراسکول ٹیچرگرفتار

تالاہاسی : فلوریڈا اسکول سے تعلق رکھنے والے ٹیچر کو گولیوں سے بھری ہوئی پستول عوامی باتھ روم میں چھوڑنے پر مقامی پولیس نے گرفتار کرلیا، یاد رہے کہ یہ وہہی اسکول ہے جس میں دو ماہ قبل فائرنگ کے واقعے میں 17 طالب علم ہلاک ہوئے تھے۔

تفصیلات کے مطابق امریکی ریاست فلوریڈا کے شہر پارک لینڈ میں واقع اسٹون مین ڈوگلیس ہائی اسکول کے ٹیچر کو پولیس نے پبلک باتھ روم میں پستول چھوڑنے پر گرفتار کرلیا ہے۔

فلوریڈا پولیس کا کہنا تھا کہ 43 سالہ ساین سمپسن نے بے دہانی میں اپنی گولیوں بھری ہوئی پستول کو سمندر کنارے بنے ہوئے پنلک ٹوئلٹ میں چھوڑ دیا تھا، جسے ایک بے گھر شخص نے دیکھ کر اٹھالیا، اس سےقبل کے سمپسن اس شخص سے بندوق چینھتے وہ دیوار پر فائر کرچکا تھا۔

اسٹون مین ڈوگلیس اسکول کے ٹیچر نے پولیس کو بتایا کہ ’جب میں نے فائرنگ کی آواز سنی تو مجھے اندازہ ہوا کہ میں اپنی قانونی رجسٹرڈ پستول باتھ روم میں بھول آیا ہوں,واپس نشے کی حالت میں مسلح شخص سے اپنی پستول واپس لی‘۔

فلوریڈا پولیس نے جائے حادثہ سے دونوں افراد 43 سالہ اسکول ٹیچر سمپسن اور 69 سالہ اسپاٹرو کو گرفتار کرلیا تھا، پولیس نے سمپسن پر پستول کو حفاظت سے نہ رکھنے کے جرم میں 250 ڈالر نقد جرمانہ جمع کروانے کے بعد رہا کردیا تھا۔

دوسری جانب اسپاٹرو نے پولیس کے سامنے اعتراف کیا کہ ’اُس نے گولیوں سے بھری ہوئی 9 ایم ایم گلوک دیکھی اور اٹھاکر فائر کردیا‘۔ جس کے بعد پولیس نے مذکورہ شخص کو نشے کی حالت میں فائر کرنے اور بغیر اجازت دخل اندازی کرنے کا کیس درج کرلیا۔


امریکا: اساتذہ کو مسلح کرنے کا متنازع بل فلوریڈا اسمبلی سے منظور


اسکول ٹیچر سمپسن نے اسٹون مین ڈوگلیس اسکول میں 19 سالہ سابق طالب علم کی فائرنگ کے بعد سمپسن نے اساتذہ کو مسلح کرنے کی تجویز کی حمایت میں آواز بلند کی تھی۔

یاد رہے کہ 15 جنوری کو فلوریڈا کے ہائی اسکول میں 19 سالہ حملہ آور نے اسکول کے اندر گھستے ہی فائرنگ کردی تھی، جس کے نتیجے میں 17 افراد ہلاک جبکہ متعدد زخمی ہوگئے تھے۔ فائرنگ کے واقعے کے خلاف طلبا وطالبات وائٹ ہاؤس کے باہر شدید احتجاج بھی کیا تھا۔

خیال رہے کہ اسکول میں فائرنگ کے واقعے کے بعد فلوریڈا میں قانون ساز ادارے نے ایک بل منظور کیا تھا، جس کے بعد ریاست کے تمام اساتذہ کو دوران تدریس اسلحہ ساتھ لے رکھنے کی قانونی اجازت دی گئی تھی۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں، مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کےلیے سوشل میڈیا پرشیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں