(3 اکتوبر 2025): استاد کا کام شفقت کے ساتھ طلبہ کو زیور تعلیم سے آراستہ کرنا ہے مگر ایک ٹیچر نے معمولی بات پر طالبعلم کا سر پھاڑ دیا۔
استاد کو روحانی باپ بھی کہا جاتا ہے اور دنیا بھر کے معاشرے میں استاد کو احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ کیونکہ کہ نونہالوں کو زیور تعلیم سے آراستہ کر کے ملک وقوم کے لیے باشعور نسل کی آبیاری کرتے ہیں۔
تاہم ایسے واقعات بھی منظر عام پر آتے ہیں جہاں استاد روحانی باپ کی جگہ ظالم اور وحشی درندے کا روپ دھار کر طلبہ پر بہیمانہ تشدد یا ان سے بدفعلی اور جنسی زیادتی جیسے گھناؤنے فعل کرتے ہیں۔
سندھ کے شہر خیرپور میں بھی ایک ایسے ہی ظالم استاد نے کمسن طالبعلم پر بہیمانہ تشدد کر کے اس کا سر پھاڑ دیا۔
ساتویں جماعت میں زیر تعلیم ایک طالب علم نے استاد سے پانی پینے کے لیے کلاس روم سے باہر جانے کی اجازت طلب کی۔ اتنی معمولی بات پر استاد کا پارہ چڑھ گیا اور اس نے بہیمانہ تشدد کرتے ہوئے طالب علم کا سر پھاڑ دیا۔
کلاس کے دیگر طلبہ کی جانب سے جب اس پرتشدد واقعہ کی موبائل فون سے ویڈیو بنانے کی کوشش کی گئی تو زبیر ابڑو نامی استاد نے موبائل فون بھی چھیننے کی کوشش کی۔
متاثرہ طالب علم کا کہنا ہے کہ مذکورہ استاد اکثر طلبہ پر تشدد کرتے ہیں۔ والدین نے اعلیٰ حکام سے نوٹس لے کر زبیر ابڑو کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
سوال کا جواب بھولنے پر خاتون استاد کا 7 سالہ طالبعلم پر لوہے کے اسکیل سے وحشیانہ تشدد


