The news is by your side.

Advertisement

اسکول میں بچیوں کا جنسی استحصال، سرِعام نے پردہ فاش کردیا

ملک میں بچیوں کے ساتھ ہونے والی جنسی استحصال کا جو سلسلہ قصور کے بھیانک واقعے سے شروع ہوا، وہ آج تک نہ تھم سکا، اس عفریت نے اب تو ہماری درسگاہوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے، جہاں استاد جیسا معزز پیشہ داغدار ہوا ہے۔

اے آر وائی نیوز کے معروف پروگرام سر عام کے میزبان اقرار الحسن اور ان کی ٹیم نے پیر محل کے سرکاری اسکول میں کمسن بچیوں کے ساتھ ہونے والے گھناؤنے فعل کا پردہ چاک کیا، جنسی استحصال جیسے قبیح جرم میں کوئی اور نہیں اسکول کے اساتذہ ہی ملوث تھے جو ننھی کلیوں کو ٹیسٹ اور امتحانات میں فیل کرنے کی دھمکی دیتے رہے اور ننھی بچیاں ان کے جنسی ہوس کا نشانہ بنتی رہیں۔

ٹیم سر عام کے مطابق جنسی زیادتی کا شکار ہونے والی بچیوں کی عمریں آٹھ سے بارہ سال کے درمیان ہیں، اساتذہ کے نام پر جنسی درندوں نے ایک دو نہیں بلکہ متعدد کم سن بچیوں کو اپنی ہوس کا نشانہ بنایا اور یہ سلسلہ عرصہ دراز سے جاری تھا، یہ جنسی درندے سرکاری اسکول کے اسٹور روم کو اپنی جنسی ہوس پوری کرنے کے لئے استعمال کرتے تھے۔ اقرار الحسن کا کہنا تھا کہ اس اسکول سے ملنے والی ویڈیوز اتنی قبیح ہے کہ انسانیت شرما جائے۔

ٹیم سرعام نے جب سرکاری پرائمری اسکول میں ننھی بچیوں کے ساتھ ہونے والے جنسی استحصال کے واقعات کا پردہ چاک کیا، تو گاؤں کے سادہ لوح افراد اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکے اور ان وحشی درندوں کو تشدد کا نشانہ بناڈالا، ایک نوجوان نے تو ملزم کا چہرہ کالا کرڈالا، اس موقع پر موجود پولیس نفری نے بمشکل ان درندوں کو مشتعل افراد کے نرغے سے نکال کر تھانے منتقل کیا۔

دوسری جانب وزیر ای ڈی او ایجوکیشن پیر محل نے اساتذہ کے روپ میں موجود ان وحشی درندوں کو نوکری سے برخاست کردیا، اور ان کے خلاف محکماتی کارروائی کا آغاز کردیا۔

پروگرام سرعام میں میزبان اقرار الحسن نے اہم نقطہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ استاد جیسے مقدس پیشے کی آڑ میں جنسی استحصال کا شکار ننھی بچیوں کی ذہنی کیفیت کیا ہوگی؟ جب وہ یہ سوچتی ہونگی کہ وہ اپنے روحانی باپ کے ہاتھوں درندگی کا نشانہ بنی، یہ بچیاں ساری زندگی استاد کے پیشے سے متعلق کیا سوچتی ہونگی؟

Comments

یہ بھی پڑھیں