The news is by your side.

Advertisement

ٹیم سرعام سیل علاقوں میں راشن تقسیم کرنے پہنچ گئی

کراچی: اے آر وائی نیوز کے مقبول عام پروگرام سر عام کی ٹیم کرونا وائرس کی وبا کے باعث سیل کیے گئے علاقوں میں راشن تقسیم کرنے پہنچ گئی۔

تفصیلات کے مطابق کرونا وائرس کے خطرناک حد تک بڑھتے کیسز کے باعث سیل کی جانے والی کراچی کی یونین کونسلز میں خوراک پہنچانے کے لیے ٹیم سرِعام سرگرمِ عمل ہو گئی ہے۔

ٹیم کے بے لوث ارکان نے حفاظتی انتظامات کے ساتھ کرونا ریڈ زونز میں پہنچ کر مستحق گھرانوں میں راشن تقسیم کیا، ٹیم کی جانب سے مختلف علاقوں میں راشن پہنچانے کا سلسلہ جاری ہے، ٹیم کے سربراہ اقرار الحسن نے کہا کہ ہم وبا کے باعث سیل کیے گئے علاقوں میں راشن تقسیم کر رہے ہیں، آپ سب سے دعاؤں کی درخواست ہے۔

انھوں نے کہا کہ کرونا ریڈ زونز قرار دیے گئے علاقوں میں ٹیم سرِعام کی جانب سے راشن کی تقسیم جاری رہے گی، سیل شدہ علاقوں میں مدد کی اشد ضرورت ہے، ٹیم سرِعام جو کر سکتی ہے کرے گی، لیکن حکومت اور باقی اداروں کی توجہ کی بھی ضرورت ہے۔

خیال رہے کہ اقرار الحسن کی قیادت میں ٹیم سرعام حفاظتی سوٹ اور ماسک پہن کر متاثرہ علاقوں میں مستحق گھرانوں میں راشن تقسیم کر رہی ہے، ٹیم کے جاں بازوں نے ملک بھر میں اپنی مدد آپ کے تحت راشن تقسیم کیا، ٹیم نے تھلیسیمیا کے مریض بچوں کے لیے خون کے عطیات بھی دیے۔

ایسٹر کا تہوار: وزیراعظم کی ہدایت پر مسیحی برادری میں راشن کی تقسیم

واضح رہے کہ کراچی اور لاہور میں کرونا وائرس کے کیسز سامنے آنے کے بعد متعدد علاقوں کو سیل کیا جا چکا ہے، مذکورہ علاقوں کے داخلی اور خارجی راستے مکمل طور پر بند کر دیے گئے ہیں، اور کسی کو آنے جانے کی اجازت نہیں ہے، جس کے باعث مکینوں کے لیے راشن کی فراہمی کا مسئلہ پریشان کن صورت اختیار کر چکا ہے۔

گزشتہ روز کراچی میں ڈسٹرکٹ ایسٹ، کنٹونمنٹ اور دیگر یوسیز کو سیل کیا گیا تھا، ڈالمیا کے علاقے میں 15 گلیوں کو رکاوٹیں اور شامیانے لگا کر سیل کیا گیا، راشد منہاس روڈ کو نیشنل اسٹیڈیم جانے والے روڈ پر سیل کیا گیا، گلزار ہجری، گلشن اقبال کی مختلف شاہراہوں کو بھی رکاوٹیں لگا کر بند کیا گیا۔

ادھر لاہور میں کرونا پھیلاؤ کے خدشے کے باعث 16 مقامات کو سیل کیا گیا، کچھ علاقے جزوی اور کچھ مکمل سیل کیے گئے، رائے ونڈ، بیگم کوٹ، بھٹہ چوک، سکندریہ کالونی، مکھن پورہ اور صدر کے بیش تر علاقے، شاہدرہ، رستم پارک کو مکمل سیل کیا گیا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں