فلم دیکھتے ہوئے آنسو آ جانا کوئی کمزوری نہیں بلکہ ایک فطری انسانی عمل ہے۔ ماہرین کے مطابق رونا انسان کے جذباتی اور جسمانی نظام کا حصہ ہے، جو ذہنی دباؤ کم کرنے اور دل کو ہلکا کرنے میں مدد دیتا ہے۔
جب انسان روتا ہے تو نہ صرف اس کے اندر کے جذبات باہر آتے ہیں بلکہ اس کے نتیجے میں دوسروں میں ہمدردی کا جذبہ بھی پیدا ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دکھ یا تکلیف کے وقت رونا ایک قدرتی ردعمل سمجھا جاتا ہے۔
ایک حالیہ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ رونے کے جذباتی فوائد کا دارومدار زیادہ تر اس کی وجوہات پر ہوتا ہے۔ جہاں بہت سے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ رونا فوری طور پر جذبات کی شدت کو کم کر دیتا ہے۔
کولیبرا سائیکالوجی’ نامی جریدے میں شائع ہونے والی تحقیق بتاتی ہے کہ آنسو بہانا مجموعی طور پر انسان کے موڈ کو بہتر نہیں بناتا۔ سائٹ ‘سائی پوسٹ’ کے مطابق رونے کے اثرات نسبتاً قلیل مدتی ہوتے ہیں اور اس کی وجوہات کے لحاظ سے مختلف ہوتے ہیں۔
تحقیق کے سربراہ اور کارل لینڈسٹینر یونیورسٹی میں شعبہ سائیکالوجی میتھڈولوجی کے سربراہ پروفیسر اسٹیفن اسٹیگر نے کہا کہ یہ حیرت کی بات ہے کہ قدرتی ماحول سے مشابہت رکھنے والے حالات میں اس پر بہت کم تحقیق کی گئی ہے۔
سائنسی تحقیق کے مطابق رونا صرف جذباتی اظہار نہیں بلکہ ایک حیاتیاتی عمل بھی ہے، جو مشکل حالات سے نمٹنے میں مدد دیتا ہے۔ تاہم یہ خیال کہ رونا فوری طور پر انسان کو سکون دے دیتا ہے، مکمل طور پر درست نہیں۔
تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ رونے کے اثرات اس کی وجہ پر منحصر ہوتے ہیں۔ بعض اوقات رونے کے بعد فوری طور پر موڈ بہتر نہیں ہوتا، بلکہ اس میں کچھ وقت لگتا ہے۔
تحقیق سے یہ بھی معلوم ہوا کہ زیادہ تر لوگ جذباتی وجوہات کی بنا پر روتے ہیں، اور ایک بڑی تعداد نے چار ہفتوں کے دوران کم از کم ایک بار رونے کا اعتراف کیا۔
خواتین زیادہ کیوں روتی ہیں؟
مطالعے کے مطابق خواتین مردوں کے مقابلے میں زیادہ روتی ہیں اور ان کے رونے کا دورانیہ بھی زیادہ ہوتا ہے۔ خواتین عموماً تنہائی یا ذاتی تعلقات کے مسائل پر روتی ہیں، جبکہ مرد زیادہ تر بے بسی یا جذباتی مناظر (جیسے فلمیں) دیکھ کر متاثر ہوتے ہیں۔
فلمیں : رونے کی سب سے بڑی وجہ
تحقیق میں یہ بات دلچسپ طور پر سامنے آئی کہ رونے کی سب سے عام وجہ فلمیں یا میڈیا مواد تھا۔ اس کے علاوہ تھکن اور تنہائی بھی شدید اور طویل رونے کا سبب بنتی ہیں۔
خوشی کے آنسو بھی حقیقت ہیں
خوشی کے آنسو بھی ایک حقیقی جذبہ ہیں، لیکن ان کا اثر فوری نہیں ہوتا۔ تحقیق کے مطابق تقریباً 15 منٹ بعد انسان کے منفی جذبات کم ہونا شروع ہوتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ رونے کے اثرات ہر شخص میں مختلف ہو سکتے ہیں، کیونکہ یہ تحقیق زیادہ تر لوگوں کے ذاتی تجربات پر مبنی تھی، جس میں کچھ غلطی کا امکان بھی موجود ہے۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں





