پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی معاہدے اور معرکۂ حق میں بھارت پر اپنی برتری قائم کرنے کے بعد سعودی عرب سمیت پوری عرب اور مسلم دنیا میں پاکستان کے وقار اور احترام میں اضافہ ہوا ہے۔ بیرونِ ملک سفر کرنے والوں کو خاص طور پر بحیثیت قوم اپنے لیے دنیا کے رویّے میں تبدیلی کا احساس ہوتا ہے اور انہیں ماضی کے مقابلے میں زیادہ اہمیت دی جارہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کے ساتھ کاروباری سرگرمیاں بڑھانے اور تجارتی معاہدے کرنے کے رجحان میں بھی بہتری دیکھی جارہی ہے۔
پاکستانی ٹیکنالوجی کے ماہرین کو اس کا تجربہ متحدہ عرب امارات میں 13 سے 16 اکتوبر تک ہونے والی جی آئی ٹی ای ایکس گلوبل میں بھی ہوا جس کے دوران پاکستانی ٹیک سیکٹر کی بہت پذیرائی ہوئی۔ عرب کمپنیوں، سرمایہ کاروں اور عوام کی جانب سے پاکستانی کمپنیوں کی مصنوعات اور ان کی خدمات حاصل کرنے میں بہت زیادہ دل چسپی کا مظاہرہ کیا گیا۔
جی آئی ٹی ای ایکس گلوبل میں دنیا بھر سے 180 ملکوں کی 6500 کمپنیوں نے اپنی ٹیکنالوجی خدمات اور مصنوعات کو نمائش کے لیے پیش کیا تھا۔ پاکستان کی 100 سے زائد کمپنیاں، اسٹارٹ اپس اس میں شامل تھے جب کہ دو لاکھ سے زائد انفارمیشن ٹیکنالوجی ماہرین نے اس میں شرکت کی۔
پاکستانی حکومت کی اس جی آئی ٹی ای ایکس گلوبل میں دل چسپی کا اظہار وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی شزا فاطمہ خواجہ کی نمائش میں موجودگی اور وہاں ان کے نہایت فعال و متحرک نظر آنے سے بھی ہوا۔ شزا فاطمہ خواجہ نے پاکستانی پویلین کا افتتاح کیا اور خاص طور پر پاکستانی ٹیکنالوجی کو عرب شخصیات سے متعارف کرانے میں بھرپور کردار ادا کیا۔ انھوں نے مختلف کمپنیوں کی اہم اور نمایاں شخصیات اور پاکستانی کمپنیوں کے نمائندوں کے درمیان تعارف اور ملاقات میں بھی معاونت کی۔
حکومت کی جانب سے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے میں ترقی اور اس سے متعلق کاروباری اور تجارتی سرگرمیوں کو فروغ دینے کے لیے کوششوں کے اثرات اب ظاہر ہو رہے ہیں۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبہ میں برآمدات گزشتہ سال تین ارب ڈالر سے تجاوز کر گئیں جب کہ رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں برآمدات ایک ارب ڈالر سے تجاوز کرچکی ہے۔ امید کی جا رہی ہے کہ اس مالی سال کے اختتام تک آئی ٹی برآمدات پانچ ارب ڈالر سے تجاوز کر جائیں گی۔ اس نمائش میں متحدہ عرب امارت میں پاکستانی سفیر فیصل ترمذی نے انکشاف کیا کہ ایک سال میں پاکستان سے متحدہ عرب امارات کو آئی ٹی ایکسپورٹ میں 10 کروڑ ڈالر کا اضافہ ہوا ہے اور یہ 280 ملین ڈالر سے بڑھ کر 380 ملین ڈالر ہو گئی ہے۔
پاکستان میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کمپنیوں کی نمائندہ تنظیم پاشا کا کہنا ہے کہ اس کے ممبران نے جی آئی ٹی ای ایکس گلوبل میں متعدد معاہدے اور مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط کیے ہیں جن کا مقصد انفارمیشن ٹیکنالوجی کی کمپنیوں خصوصاً اسٹارٹ اپس کو معاونت فراہم کرنا اور ترقی دینا ہے۔ ان کے ذریعے اسٹارٹ اپس، مارکیٹ تک رسائی، اور عالمی سطح پر کام کرنے کے مواقع پیدا ہوں گے۔ یہ معاہدے اور کاروباری سمجھوتے پاکستانی تاجروں کو بین الاقوامی ایکو سسٹم سے جوڑنے اور معاشی ترقی کا عمل تیز کرنے کے اہداف میں شامل ہیں۔ آنے والے دنوں میں یہی کاروباری لین دین کی بنیاد ہوں گے۔
پاکستانی ٹیکنالوجی کمپنی کے چیف ایگزیکٹو خوشنود آفتاب بھی کاروباری غرض سے جی آئی ٹی ای ایکس گلوبل کا حصّہ بنے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس مرتبہ نمائش میں ماحول ہی بدلا ہوا تھا۔ ایک طرف پاکستان کی وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی شزا فاطمہ خواجہ پاکستانی کمپنیوں کو آگے بڑھانے کے لیے سرگرم نظر آئیں تو دوسری طرف اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC)، وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی اینڈ ٹیلی کام، ٹیک ڈیسٹینیشن پاکستان، اور پاکستان سافٹ ویئر ایکسپورٹ بورڈ کے افسران بھی سرگرم نظر آئے۔
جی آئی ٹی ای ایکس گلوبل میں شریک ہونے والے ٹیکنالوجی کمپنیوں کے پاکستانی سربراہوں اور ماہرین کی طرح خوشنود آفتاب نے بھی عرب دنیا کی کاروباری شخصیات کو اپنے شعبے اور خدمات سے متعلق تبادلۂ خیال کے علاوہ عام ملاقاتوں کے دوران خاصی گرم جوشی کا مظاہرہ کرتے دیکھا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس مرتبہ ایک بڑی تبدیلی ہم نے دیکھی ہے، کل تک جو احباب مجھے رفیق کہتے تھے، اب حبیب کہہ کر پکار رہے ہیں۔ ان کا بچپن اور ابتدائی تعلیم سعودی عرب میں ہوئی ہے جہاں ان کے والد بسلسلۂ ملازمت مقیم تھے، اس لیے وہ سعودی معاشرے اور روایات کو سمجھتے ہیں۔ خوشنود آفتاب کہتے ہیں کہ عرب میں رفیق اسے کہا جاتا ہے جو صرف ساتھ ساتھ رہتا ہے، مگر حبیب کا لفظ اس کے لیے استعمال کیا جاتا ہے جو دل میں بستا ہو۔
اسٹال پر آنے والوں کی اکثریت جہاں پاکستانی کمپنیوں کی مصنوعات اور خدمات میں دل چسپی لے رہی تھی، وہیں معرکۂ حق پر مبارک باد کے ساتھ وہ یہ بھی جاننا چاہتے تھے کہ پاک فوج نے بھارت کے سات طیارے کیسے مار گرائے، کس طرح بھارت کو سائبر حملہ کر کے بے بس کیا اور کس طرح اس کے مواصلاتی رابطوں کو مفلوج کیا گیا۔ اسٹال پر آنے والوں کی اس موضوع میں بھی دل چسپی رہی کہ اگر پاکستان اس ملک کے مواصلاتی نظام کو جس کا انفارمیشن ٹیکنالوجی کی ایکسپورٹ میں بڑا نام ہے، مفلوج کرسکتا ہے تو پھر وہ ایسا نظام بھی تشکیل دے سکتا ہے جس کو ہیک کرنا مشکل ہو۔ خوشنود آفتاب کا کہنا تھا کہ پاکستانی اسٹالز پر شرکا کی دل چسپی مصنوعی ذہانت اور سائبر سیکورٹی میں ماہرانہ خدمات اور سافٹ ویئرز میں تھی۔ اس کے علاوہ عرب اور دیگر شرکا کی توجہ کا مرکز پاکستان میں آرٹیفیشل انٹیلیجینس کی بنیاد پر تیار کردہ کمپیوٹر رہے۔
معرکۂ حق میں بھارت کو شکست دینے اور اب سعودی عرب سے دفاعی معاہدے کے بعد دنیا پاکستان کو ایک الگ نظر سے دیکھ رہی ہے اور اے آئی ٹیکنالوجی اور سائبر سیکیورٹی کے شعبہ میں پاکستانی ماہرین کی صلاحیتوں کی معترف ہے۔ دوسری طرف مسلم دنیا اور خصوصاً عرب ممالک میں پاکستانیوں کی قدر و منزلت بڑھ گئی ہے۔ اسے ہم پاکستان کے لیے اس شعبہ میں ایک نادر موقع کہہ سکتے ہیں جس میں پاکستانی اپنی مصنوعات اور بہترین پیشہ ورانہ خدمات کے ذریعے ان ملکوں میں اپنا ایک مستقل مقام بنا سکتے ہیں۔ اس سلسلے میں حکومت اور نجی شعبے کو مل کر کام کرنا ہوگا تاکہ اس منڈی سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھایا جاسکے۔
راجہ کامران سینئر صحافی ہیں۔ کونسل آف اکنامک اینڈ انرجی جرنلسٹس (CEEJ) کے صدر ہیں۔ ان کا ٹوئٹر ہینڈل rajajournalist@ ہے۔


