The news is by your side.

Advertisement

پاکستانی ڈرائیور کا قتل، امریکی نو عمر لڑکیوں کو عدالت سے سزا

واشنگٹن: پاکستانی نژاد ٹیکسی ڈرائیور کے قتل پر 14 اور 15 سالہ لڑکیوں کو عدالت نے سزا سنا دی۔

تفصیلات کے مطابق امریکا کے دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی میں گاڑی چوری کی واردات کے دوران پاکستانی ڈرائیور 66 سالہ محمد انور کے قتل کے جرم میں چودہ اور پندرہ سالہ لڑکی کو 21 سال کی ہونے تک قید کی سزا سنا دی گئی۔

یاد رہے کہ رواں سال مارچ میں 2 نوجوان لڑکیوں نے فوڈ ڈلیور کرنے والی کمپنی ’اوبر ایٹس‘ کے ڈرائیور محمد انور سے گاڑی چھیننے کی کوشش کی تھی، اس دوران گاڑی بے قابو ہو گئی اور گاڑی لوہے کی ریلنگ کے ساتھ ٹکرا کر الٹ گئی، جس سے محمد انور کی موت واقع ہو گئی۔

لڑکیوں نے اپنا جرم قبول کر لیا تھا، جس پر عدالت نے منگل کے روز 14 سالہ لڑکی کو زیادہ سے زیادہ 7 سال قید کی سزا سنا دی، اور اسے نو عمر قیدیوں کی جیل بھیج دیا، حادثے کے وقت ان لڑکیوں کی عمر 13 اور 15 سال تھی، جن میں چھوٹی لڑکی اب چودہ سال کی ہو گئی ہے۔

امریکا میں قتل پاکستانی ڈرائیور کے اہل خانہ کیلئے خطیر رقم کا عطیہ

پاکستانی نژاد محمد انور اپنے تین بچوں اور اہلیہ کے ساتھ امریکا میں 2014 سے رہائش پذیر تھے، وہ واشنگٹن ڈی سی میں فوڈ ڈلیور کرنے والی ایک کمپنی کے ساتھ بطور ڈرائیور کام کر رہے تھے۔

اس واقعے کی ویڈیو بھی انٹرنیٹ پر موجود ہے، جس میں دیکھا جا سکتا ہے، کہ محمد انور لڑکیوں سے گاڑی کا کنٹرول لینے کی کوشش کر رہے ہیں، کہ اسی دوران ان میں سے ایک لڑکی گاڑی کو تیز رفتاری کے ساتھ بھگاتی ہے، اور گاڑی بے قابو ہو کر لوہے کی ریلنگ کے ساتھ ٹکرا کر الٹ جاتی ہے۔

دونوں لڑکیوں کو گاڑی میں سے باہر نکلنے کے ساتھ ہی علاقے میں موجود نیشنل گارڈز نے گرفتار کر لیا تھا، محمد انور شدید زخمی تھے، حادثے کے نتیجے میں ان کے جسم کی کئی ہڈیاں ٹوٹیں، سر پر شدید چوٹ آئی، ان کی موت بعد میں اسپتال میں واقع ہوئی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں