تہران: ایران نے کویت کے ان الزامات کو یکسر بے بنیاد قرار دے کر مسترد کر دیا ہے جن میں الزام لگایا گیا تھا کہ تہران اس خلیجی عرب ملک کے خلاف جارحانہ کارروائیوں کی منصوبہ بندی کر رہا تھا۔
غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق ایران کی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ ایک باضابطہ بیان میں کویت کی جانب سے چار ایرانی بحری اہلکاروں سے متعلق واقعے کو نامناسب سیاسی اور پروپیگنڈا مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی شدید مذمت کی گئی ہے۔ ترجمان نے ایران پر کویت کے خلاف دشمنی اور جارحیت کی منصوبہ بندی کے الزامات کو مکمل طور پر من گھڑت قرار دیا ہے۔
ایرانی وزارتِ خارجہ نے اپنے بیان میں واضح کیا ہے کہ چاروں ایرانی اہلکار معمول کے مطابق بحری گشت کی ڈیوٹی پر مامور تھے۔
جہاز کے نیویگیشن سسٹم (جہاز رانی کے نظام) میں اچانک خرابی پیدا ہونے کی وجہ سے وہ نادانستہ طور پر کویت کی سمندری حدود میں داخل ہو گئے۔
وزارت نے کویت کی جانب سے اس تکنیکی واقعے کو "ایران کے معاندانہ عزائم” کا رنگ دینے کی کوششوں کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے حقیقت سے دور قرار دیا۔
ایرانی وزارتِ خارجہ نے کویت کی وزارتِ خارجہ اور وزارتِ داخلہ کے سرکاری بیانات میں لگائے گئے تمام الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کویتی حکام پر زور دیا ہے کہ وہ ایسے جلد بازی میں کیے گئے بیانات اور بے بنیاد دعووں سے گریز کریں۔
ایران جنگ پر امریکا کے کتنے ارب ڈالر خرچ ہوگئے؟ حیران کن انکشاف
بیان میں مزید کہا گیا کہ ایران خطے کے تمام ممالک، بشمول کویت، کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے احترام کی اصولی پالیسی پر سختی سے کاربند ہے۔ تہران کویت سے یہ توقع رکھتا ہے کہ وہ ایسے کسی بھی زیرِ التوا معاملے کو عوامی بیانات بازی کے بجائے باضابطہ سفارتی ذرائع سے حل کرے۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


