اسلام آباد : ٹیلی کام سیکٹر کی ترقی کیلیے سیٹلائٹ کی موجودگی کے باوجود زمینی انفرااسٹرکچر پر انحصار کرنا مستقبل میں شدید مشکلات پیدا کرسکتا ہے۔
اس حوالے سے عوامی سطح پر یہ سوال گردش کررہا ہے کہ سیٹلائٹ کی موجودگی کے باوجود ٹیلی کام سیکٹر زمینی انفرااسٹرکچر پر کیوں انحصار کرتا ہے؟
اے آر وائی نیوز کے پروگرام ’دی اسٹوری بی ہائینڈ‘ میں آئی ٹی ایکسپرٹ عمار جعفری نے اپنی گفتگو میں اس تمام صورتحال کا تفصیلی جائزہ پیش کیا۔
انہوں نے بتایا کہ آنے والے وقت کا مقابلہ کرنے کیلیے ہمیں پہلے سے زمین نہیں بلکہ خلا اور جدید ٹیکنالوجی پر توجہ دینا ہوگی ورنہ پاکستان پیچھے رہ جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ اسپیس ٹیکنالوجی، آئی او ٹی، مصنوعی ذہانت اور بلاک چین میں طویل المدتی حکمت عملی اپنانے کی فوری ضرورت ہے، کیونکہ مستقبل کی معیشت، مواصلات اور عالمی مقابلہ اسی شعبے سے وابستہ ہوں گے۔
آئی ٹی ماہر نے کہا کہ آج دنیا میں سیٹلائٹ ٹیکنالوجی تیزی سے ترقی کر رہی ہے، اس لیے ہر جگہ زمینی انفرا اسٹرکچر بچھانے کے بجائے خلا میں موجود جدید سسٹم سے فائدہ اٹھانے پر توجہ دینی چاہیے۔
جدید آئی او ٹی سسٹمز وقت کی اہم ضرورت
عمار جعفری نے کہا کہ سیٹلائٹ ٹیکنالوجی کے ساتھ ساتھ انٹرنیٹ آف تھنگز بھی مستقبل کی اہم ضرورت ہے۔ ان کے مطابق ہزاروں موبائل ٹاورز نصب کرنے کے بجائے جدید آئی او ٹی سسٹمز کے ذریعے محدود انفرااسٹرکچر سے بڑے شہروں کے مواصلاتی نظام کو مؤثر انداز میں چلایا جا سکتا ہے۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ مستقبل میں دنیا کی تقریباً 90 فیصد مواصلاتی سرگرمیاں خلا سے منسلک ہوں گی، اسی لیے اقوام متحدہ بھی پائیدار ترقی کے نئے تصور "SDG-18: Space for All, Earth and Beyond” پر کام کر رہا ہے، جس میں پاکستان کے لیے بھی کردار ادا کرنے کے مواقع موجود ہیں۔
ٹیلی کام بل کا تنازعہ
ٹیلی کام بل سے متعلق ایک سوال کے جواب میں عمار جعفری کا کہنا تھا کہ ڈیجیٹل انفرااسٹرکچر کی توسیع ناگزیر ہے مگر شہریوں کے آئینی اور جائیداد کے حقوق بھی محفوظ رہنے چاہئیں، انفرااسٹرکچر کی توسیع کے لیے بعض اوقات تکنیکی تقاضوں کو پورا کرنا ناگزیر ہوتا ہے۔
مثال کے طور پر کئی مواصلاتی نظام لائن آف سائٹ کے اصول پر کام کرتے ہیں، جس کے باعث آلات کو مخصوص عمارتوں یا بلند مقامات پر نصب کرنا ضروری ہوتا ہے، تاہم اس کے ساتھ عمارتوں کے مالکان کے حقوق کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
انہوں نے کہا کہ حالیہ تنازع کے بعد اس معاملے پر کھل کر بحث و مباحثہ ہوا جس سے مختلف پہلو سامنے آئے، ان کے مطابق اگر متعلقہ فریقین سے پہلے ہی مشاورت کرلی جاتی اور ایک جامع کمیٹی تشکیل دے دی جاتی تو تنازع سے بچا جا سکتا تھا۔
فائبر آپٹک نیٹ ورک کی کامیابی
آئی ٹی ماہر نے فائبر آپٹک منصوبوں کی مثال دیتے ہوئے بتایا کہ ماضی میں سڑکیں کھود کر کیبل بچھانے کے بجائے بعض علاقوں میں بجلی کے کھمبوں کے ذریعے فائبر آپٹک نیٹ ورک کامیابی سے دیہی علاقوں تک پہنچایا گیا، جس سے کم لاگت اور کم مشکلات کے ساتھ انٹرنیٹ کی سہولت فراہم ہوئی۔
انہوں نے زور دیا کہ حکومت کو انفراسٹرکچر کی توسیع میں سیاسی یا ذاتی مفادات کے بجائے تکنیکی بنیادوں پر فیصلے کرنے چاہئیں۔ ان کے مطابق ٹیکنالوجی کی ترقی کو روکا نہیں جا سکتا، اس لیے ضروری ہے کہ ایک ایسی پالیسی اختیار کی جائے جس میں ایک طرف ڈیجیٹل ترقی جاری رہے اور دوسری طرف شہریوں کے آئینی اور قانونی حقوق بھی مکمل طور پر محفوظ رہیں۔
یاد رہے کہ گزشتہ دنوں قومی اسمبلی میں وفاقی وزیر آئی ٹی شزا فاطمہ خواجہ کی جانب سے پاس کروائے جانے والے ٹیلی کام بل کو پہلے دن سے ہی شدید مخالفت، بحث اور تنقید کا سامنا ہے۔


