اسلام آباد (11 مارچ 2026): گزشتہ 30 سال سے ٹیلی کام سیکٹر کے مسابقتی رولز نہ بنائے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔
سینٹر پلوشہ خان کی زیر صدارت منعقد ہونے والے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے اجلاس میں سینیٹر شہادت اعوان نے کہا کہ گزشتہ تیس سال سے ٹیلی کام کمپٹیشن رولز نہیں بنائے گئے، جب کہ حال ہی میں 2 ٹیلی کام کمپنیوں کا انضمام ہوا ہے، ایسے میں اگر کمپنیوں میں کسی قسم کا کوئی تنازع سامنے آیا تو ذمہ دار کون ہوگا؟
شہادت اعوان نے کہا رولز نوٹیفائی ہونا تو دور کی بات رولز کا ڈرافٹ بھی سامنے نہیں آیا، سینیٹر کامران مرتضیٰ نے تشویش کا اظہار کیا کہ رولز ابھی تک فریم نہیں ہوئے تو کب تک بنائے جائیں گے۔
سیکریٹری آئی ٹی اینڈ ٹیلی کام نے اجلاس کو بتایا کہ پچھلے ایک سال ٹیلی کام رولز پر کام ہوا ہے، ٹیلی کام آلات سے متعلق رولز تیار ہو کر نوٹیفائی ہو گئے۔ چیئرمین پی ٹی اے نے بتایا کہ ٹیلی کام کمپٹیشن رولز فریم تو ہو گئے ہیں لیکن کمپٹیشن کمیشن نے 3 بار اس پر اعتراض کیا۔
پاکستان میں تیز انٹرنیٹ فائیوجی کے نئے دور کا آغاز
شہادت اعوان نے کہا کمپٹیشن رولز اگر ہم یاد نہ دلاتے تو وزارت آئی ٹی اور پی ٹی اے تو سویا ہوا تھا، طلحہ محمود نے کہا میں حیران ہو اس بات پر اب تک رولز کیوں نہیں بنائے گئے یہ تو لاپرواہی کی حد ہے، کامران مرتضیٰ نے کہا کمپٹیشن رولز کے معاملے پر وزارت قانون و انصاف کو بھی آن بورڈ لیا جائے۔
چیئرپرسن کمیٹی نے رولز کا ڈرافٹ تیار کرنے کے لیے وزارت آئی ٹی کو ایک ماہ کا وقت دے دیا۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


