امریکی بحریہ کے ایرانی تجارتی جہاز پر حملے میں 10اہلکار زخمی اور 5 لاپتہ ہو گئے۔
الجزیرہ کے مطابق امریکی بحریہ نے گزشتہ رات ایرانی پرچم والے تجارتی جہاز پر حملہ کیا اور ایرانی میڈیا کے مطابق امریکی حملے کے بعد ایرانی جہاز کے 5اہلکار تاحال لاپتہ ہیں۔
حملہ آبنائے ہرمز اور عمان میں بحیرہ مکران کےقریب ہوا۔
امریکی حملے میں ایرانی جہاز کارگو شپ سے ٹکرایا اور آگ لگ گئی۔ ایرانی میڈیا کے مطابق ایرانی جہاز کے زخمی اہلکار اسپتال منتقل کر دیے گئے ہیں جب کہ لاپتہ اہلکاروں کے لیے سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن جاری ہے۔
صدر ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ آبنائے ہرمز میں ایران کے ساتھ معمولی جھڑپ کے باوجود فی الحال جنگ بندی برقرار ہے، تاہم انہوں نے تہران کو متنبہ کیا ہے کہ اگر جلد معاہدے پر دستخط نہ کیے گئے تو اسے انتہائی سخت جواب اور سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکی بحریہ نے ایران کی جانب سے کیے گئے میزائل اور ڈرون حملے ناکام بنا دیے ہیں۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ امریکی بحریہ کے تین بحری جہاز آبنائے ہرمز سے گزر کر امریکی بیڑے میں شامل ہو گئے ہیں۔
امریکی صدر نے بتایا کہ اس دوران ایران کی جانب سے میزائلوں، ڈرونز اور کشتیوں کے ذریعے حملے کی کوشش کی گئی، جسے امریکی بحریہ نے ناکام بناتے ہوئے تمام میزائل فضا میں تباہ کر دیے اور جوابی کارروائی میں متعدد ایرانی کشتیاں سمندر برد کر دیں۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ان حملوں میں امریکی بحری جہازوں کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔ انہوں نے ایرانی کارروائی کو ‘معمولی مذاق’ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر جنگ بندی نہ ہوتی تو دنیا ایران سے اٹھنے والا ایک بہت بڑا دھماکہ دیکھتی۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


