The news is by your side.

Advertisement

عالمی سطح پر بڑی طاقتوں کے درمیان تناؤ بڑھتا جارہا ہے ، منیر اکرم

نیویارک : اقوام متحدہ میں پاکستان کےمستقل مندوب منیر اکرم کا کہنا ہے کہ عالمی سطح پر بڑی طاقتوں کے درمیان تناؤ بڑھتا جارہا ہے ، ایٹمی اسلحہ، میزائلوں کی روک تھام کیلئے باہمی اقدامات کیے جائیں۔

تفصیلات کے مطابق اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی تخفیف اسلحہ وبین الاقوامی سلامتی کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کےمستقل مندوب منیر اکرم نے کہا عالمی سطح پر بڑی طاقتوں کے درمیان تناؤ بڑھتا جارہا ہے، طاقت اور مداخلت کے یکطرفہ استعمال سے امن و سلامتی کوخطرہ ہے۔

پاکستان کےمستقل مندوب کا کہنا تھا کہ جدید اور مہلک ترین ہتھیاروں پرکام جاری ہے، جدید ہتھیاروں پر قابوپانے کے اہم معاہدوں کو پامال کیا جارہا ہے، بھارتی جارحانہ پالیسیوں سے عالمی امن کو خطرات لاحق ہیں۔

منیر اکرم نے کہا کہ فروری 2019 میں بھارت نے پاکستان کے خلاف صریح جارحیت کی، بھارتی جارحیت کے نتیجے میں اس کے 2 طیارے تباہ ہوئے، خیر سگالی کے طور پر وزیر اعظم پاکستان نے پائلٹ کوواپس بھیجا، پاکستانی اقدام کو کمزوری سمجھا گیا‌ اور جارحانہ اندازمیں اضافہ ہوا۔

ان کا کہنا تھا کہ بھارت نےجموں وکشمیرکی متنازع حیثیت کو یکطرفہ طور پرتبدیل کیا، گزشتہ سال ایل اوسی پربھارت نے 3ہزار سے زائد بار خلاف ورزی کی، بھارتی رہنماؤں کی طرف سے بار بار جارحیت کی دھمکی دی جاتی ہے۔

پاکستان کےمستقل مندوب نے کہا کہ پاکستان کسی بھی بھارتی جارحیت کا فیصلہ کن اورمؤثر جواب دے گا، بھارت کو جدید ہتھیاروں کی فراہمی سے خطے میں امن کا خطرہ ہے، بھارت نے تخفیف اسلحہ اور جنگ سے گریز پر بات چیت سے انکارکیا، بھارت کو اسلحہ منافع یا ایشیا میں اسٹریٹجک مقاصد کیلئے فراہم کیا گیا۔

منیر اکرم کا کہنا تھا کہ پاکستان جوہری ہتھیاروں سے پاک دنیا کے مقاصد کے لئے پُرعزم ہے اور سماجی واقتصادی ترقی کیلئے امن واسٹریٹجک استحکام کا خواہاں ہے ، پاکستان اسلحے کی دوڑسے بچناچاہتاہے۔

انھوں نے مزید کہا خطےمیں پریشان کن سلامتی کی حرکیات سےغافل نہیں رہ سکتے، پاکستان اپنی سیکیورٹی یقینی بنانے کیلئےتمام ضروری اقدامات کرے گا ، خطے میں امن پاک بھارت تنازعات حل کرکے حاصل کیاجاسکتاہے۔

پاکستان کےمستقل مندوب کا کہنا تھا کہ جموں وکشمیرپاکستان اوربھارت کےدرمیان بنیادی مسئلہ ہے، جنوبی ایشیا میں روایتی قوتوں میں توازن برقرار رکھنا ضروری ہے، ایٹمی اسلحہ، میزائلوں کی روک تھام کیلئے باہمی اقدامات کیے جائیں، امید ہے نیوکلیئرسپلائرز گروپ کی رکنیت میں توسیع غیرامتیازی ہوگی، ہماری بقا امن اورسماجی ومعاشی ترقی کیلئے ٹھوس اقدامات پرمنحصرہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں