اسلام آباد: وزیرقانون اعظم نذیر تارڑ کا کہنا ہے کہ آرمی چیف کی مدت ملازمت پر کسی بحث اور نوٹیفکیشن کی ضرورت نہیں ، مدت کا تعین قانون کےمطابق ہوچکا ہے۔
تفصیلات کے مطابق وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کہ چیئرمین جوائنٹ چیف آف اسٹاف کے عہدے کو ختم کرنے کی تجویز زیر غور ہے، تاہم یہ عہدہ 27 نومبر تک بحال رہے گا۔
وزیر قانون نے بتایا کہ 1973 سے پہلے کمانڈران چیف ہی دفاعی فورسز کے سربراہ تھے.
اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ آرمی چیف کی مدت ملازمت پر کسی بحث اور نوٹیفکیشن کی ضرورت نہیں، آرمی چیف کی مدت کا تعین قانون کے مطابق ہوچکا، اس کےنوٹیفکیشن کی ضرورت نہیں، یہ غیر ضروری بحث ہے کہ آرمی چیف کی مدت ملازمت 27 یا 29 نومبر کو ختم ہوگی۔
انھوں نے فیلڈ مارشل اور آرمی چیف کے عہدے میں فرق واضح کرتے ہوئے کہا کہ آئین میں اس کی وضاحت موجود ہے اور چیف آف آرمی اسٹاف نے جنگ میں دونوں ساتھیوں کو ساتھ ملا کر قیادت فراہم کی۔
وزیر قانون کا کہنا تھا کہ چیف آف فورسز کے عہدے کی مدت آئین کے مطابق مقرر کی جائے گی اور وزارت دفاع آرمی ایکٹ میں معمولی ترمیم پر کام کر رہی ہے۔
انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ کون سے مقدمات آئینی عدالت یا سپریم کورٹ سنے گی اس کی وضاحت کی گئی ہے اور سوموٹو کا اختیار ختم کر دیا گیا ہے، عدالت پہلے مطمئن ہوگی۔


