مستونگ: کسٹم ویئر ہاؤس میں خوفناک آتشزدگی کے نتیجے میں 37 افراد جھلس کر زخمی ہو گئے جبکہ 100 سے زائد گاڑیاں جل کر کوئلہ بن گئیں۔
تفصیلات کے مطابق بلوچستان کے علاقے لک پاس میں واقع پاکستان کسٹمز کے ویئر ہاؤس میں لگنے والی ہولناک آگ نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی۔
ایل پی جی باؤزر اور گیس سلنڈرز میں وقفے وقفے سے ہونے والے دھماکوں کے نتیجے میں 37 افراد جھلس کر زخمی ہو گئے، جبکہ اربوں روپے مالیت کا سامان اور 100 سے زائد گاڑیاں جل کر کوئلہ بن گئیں۔
آگ اتوار کی صبح تقریباً 10 سے 11 بجے کے درمیان لگی۔ ویئر ہاؤس میں موجود ایندھن، کیمیکلز، ٹائرز اور کپڑے کے باعث آگ نے فوری طور پر پورے گودام کو لپیٹ میں لے لیا۔
چیف فائر آفیسر نے اسے "تیسرے درجے” کی آگ قرار دیتے ہوئے بتایا کہ آپریشن کے دوران ایل پی جی باؤزر اور سلنڈرز کے زوردار دھماکے ہوئے۔ زخمیوں میں عام شہریوں کے علاوہ ریلیف کمشنر ڈی جی پی ڈی ایم اے، ڈی سی مستونگ اور اسسٹنٹ کمشنر سریاب بھی شامل ہیں جو دھماکے کی زد میں آکر معمولی زخمی ہوئے۔
تمام زخمیوں کو شیخ زید اسپتال اور بعد ازاں سول اسپتال کوئٹہ کے برن یونٹ منتقل کیا گیا، جہاں بعض کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔
22 گھنٹے سے زائد وقت گزرنے کے باوجود آگ پر مکمل قابو نہیں پایا جا سکا، پی ڈی ایم اے کی 13 ایمبولینسز، 10 سے زائد فائر ٹینڈرز اور درجنوں ریسکیورز جائے وقوعہ پر موجود ہیں۔
انتظامیہ نے خطرے کے پیشِ نظر 500 گز کے علاقے کو سیل کر دیا، ابتدائی اندازے کے مطابق گودام میں موجود خشک میوے، کپڑے، کیمیکلز اور وہاں کھڑی 100 سے زائد قیمتی گاڑیاں مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہیں۔
حفاظتی اقدامات کے تحت بند کی گئی کوئٹہ کراچی قومی شاہراہ کو آگ کی شدت میں کمی آنے کے بعد ٹریفک کے لیے بحال کر دیا گیا ہے، تاہم جائے وقوعہ کے قریب پولیس اور ایف سی کا پہرہ برقرار ہے۔
انتظامیہ کے مطابق آگ مکمل بجھنے کے بعد ہی نقصانات کا حتمی تخمینہ لگایا جا سکے گا۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


