The news is by your side.

Advertisement

ہتھیار ڈالنے والے یوکرینی فوجیوں کا تہلکہ خیز انکشاف

ہتھیار ڈالنے والے یوکرینی فوجیوں نے اس بات کی تصدیق کردی ہے کہ کیف نے دونباس میں حملے کی بڑے پیمانے پر منصوبہ بندی کررکھی تھی۔

ایک غیر ملکی ٹی وی چینل پر دونیٹس پیپلز ریپبلک کی پیپلز ملیشیا کے نائب سربراہ ایڈورڈ باسورین نے براہ راست نشریات میں دعویٰ کیا ہے کہ ہتھیار ڈالنے والے یوکرینی فوجیوں نے اس بات کی تصدیق کردی ہے کہ کیف نے دونباس میں بڑے پیمانے پر حملے کی منصوبہ بندی کررکھی تھی۔

باسورین نے کہا کہ یوکرینی فوجی جو ڈونیسٹک عوامی جمہوریہ کے آگے ہتھیار ڈال چکے ہیں انہوں نے بھی اس بات کی تصدیق کردی ہے کہ انہیں بڑے پیمانے پر جنگی کارروائیوں کا تیاری کرائی گئی تھی جس کا مقصد دونباس پر حملہ کرنا تھا۔

یوکرینی فوجیوں کے اس انکشاف کے بعد ملیشیا کے کمانڈر کا کہنا تھا کہ اگر ہم ایسا نہ کرتے تو عام شہریوں کی ہلاکتیں زیادہ ہوتیں یہی وجہ ہے کہ روس کا فوجی آپریشن بروقت اور جائز تھا۔

واضح رہے کہ دونباس جنوب مشرقی یوکرین میں ایک تاریخی، ثقافتی اور اقتصادی خطہ ہے جس کے کچھ علاقوں پر روس یوکرین جنگ کے دوران علیحدگی پسند گروپوں نے قبضہ کرلیا ہے جس میں دونیسٹک عوامی جموریہ اور لوگانسک عوامی جمہوریہ شامل ہے۔

جبکہ دونیتسک مشرقی یوکرین کا صوبے دونیتسک اوبلاست کا انتظامی مرکز ہے لیکن صوبے میں جاری بحران کے باعث ایک عارضی اقدام کے طور پر اس کا انتظامی مرکز مروپل میں منتقل کردیا گیا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں