اتوار, اگست 16, 2026
اشتہار

دہشت گردی کا نیٹ ورک بے نقاب، گرفتار خارجی سہولت کار کے سنسنی خیز انکشافات

اشتہار

حیرت انگیز

بنوں: فتنہ الخوارج کی سہولت کاری میں ملوث خود ساختہ مولوی ظفر یاب کے سنسنی خیز انکشافات سامنے آگئے، ظفر یاب کا تعلق جامع نظام العلوم بنوں سمیت جےیوآئی کےایک گروپ سے ہے۔

تفصیلات کے مطق قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ایک بڑی کارروائی کے دوران دہشت گردی کا نیٹ ورک بےنقاب کرتے ہوئے فتنہ الخوارج کی سہولت کاری میں ملوث خودساختہ مولوی ظفر یاب کو گرفتار کر لیا۔

گرفتار دہشت گرد نے تفتیش کے دوران سنسنی خیز اور اہم انکشافات کیے ، ظفر یاب نے اعتراف کیا ہے کہ دہشت گردی، بھتہ خوری اور دھمکیوں کو جواز فراہم کرنے کے لیے مذہب کی آڑ میں غیر قانونی مدارس کے ذریعے فتاویٰ کا سہارا لیا جا رہا تھا۔

گرفتار دہشت گرد نے بتایا کہ خارجی کمانڈر حکمت روشان کا سرگرم ساتھی اور گل بہادر شوریٰ کا رکن ہوں، خارجی کمانڈرز اپنے مذموم مقاصد، بھتہ خوری اور دھمکیوں کے لیے اس سے غیر شرعی فتوے لیتے تھے اور حکمت روشان اس کام کے لیے اسے مختلف عہدوں، لالچ اور مالی فوائد کی پیشکش کرتا تھا۔

ملزم نے واضح کیا کہ فتنہ الخوارج کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے، اور یہ لوگ محض اپنے مقاصد کے لیے مسلمانوں کے قتل کو جائز قرار دیتے ہیں۔

تفتیش کے دوران ملزم کے تعلیمی پس منظر اور سیاسی و مذہبی روابط کی تفصیلات بھی سامنے آئی ہیں، جس کے مطابق ملزم کا تعلق جامع نظام العلوم بنوں سمیت جے یو آئی کے ایک گروپ سے ہے۔

ظفر یاب نے درس نظامی جامع نظام العلوم (شعبہ یتیم خانہ بنوں) سے حاصل کی جبکہ تین سالہ ‘تخصص فی الفقہ’ کی تعلیم المرکز اسلامی غوریوالہ سے بھی حاصل کی۔

غیرقانونی مدارس کو نیشنل ایکشن پلان کےتحت ڈی جی آرای کے دائرہ کار میں لانا ناگزیر ہے تاکہ مستقبل میں کوئی بھی عنصر مذہب یا تعلیمی اداروں کو دہشت گردی اور سہولت کاری کے لیے استعمال نہ کر سکے۔

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں