The news is by your side.

Advertisement

سندھ: دہشت گردی سے متعلق قانون کا 24 سال بعد پہلی بار استعمال

کراچی: دہشت گردوں کے سرپرستوں کے خلاف بنے قانون کا صوبہ سندھ میں 24 سال بعد پہلی بار استعمال ہوا ہے۔

اے آر وائی نیوز کے مطابق کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) نے اورنگی ٹاؤن میں رینجرز پر حملے کے مقدمے میں 21 آئی کی دفعہ کا پہلی بار استعمال کیا ہے۔

1997 سے موجود قانون کی اس دفعہ کا استعمال سندھ میں پہلی بار کیا گیا ہے، ڈی آئی جی سی ٹی ڈی عمر شاہد نے بتایا کہ اس سے قبل پولیس 109 کی دفعہ استعمال کرتی تھی جو قابل ضمانت تھی۔

عمر شاہد کا کہنا تھا کہ 21 آئی دفعہ نا قابل ضمانت ہے، اس دفعہ کے استعمال سے اب دہشت گردوں کے سرپرستوں کا محاسبہ ہو سکے گا، اور دہشت گرد جن کی ایما پر کارروائیاں کرتے ہیں انھیں بھی کٹہرے میں لایا جا سکے گا۔

یاد رہے کہ منگل کو اورنگی ٹاؤن کراچی میں رینجرز موبائل پر حملے کا مقدمہ درج کیا گیا، تفتیش کاروں کا کہنا تھا کہ دھماکا کالعدم علیحدگی پسند تنظیموں اور متحدہ لندن کی مشترکہ کارروائی ہو سکتی ہے۔

سی ٹی ڈی میں درج ایف آئی آر میں دہشت گردی، قتل اور اقدام قتل کی دفعات شامل کی گئی ہیں، تفتیشی ٹیموں نے منگل کو دھماکے کی جگہ کا دورہ بھی کیا۔

تفتیش کاروں کا کہنا تھا کہ بارود کی نوعیت کا جائزہ لے کر دہشت گرد گروپ کی شناخت کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، موٹر سائیکل لانے والے دہشت گردوں کی عمر 25 سے 30 سال کے درمیان لگتی ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں