اسلام آباد : ماہر بین الاقوامی امور میجر جنرل (ر) زاہد محمود نے ترلائی میں مسجد و امام بارگاہ پر حملے اور دہشت گردی کے واقعات کو آپریشن سندور ٹو قرار دیا ہے۔
اے آر وائی نیوز کے پروگرام سوال یہ ہے میں خصوصی گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ خودکش حملہ بھارت اور افغان طالبان گٹھ جوڑ کا نتیجہ ہے، دہشت گرد پاکستان کو طویل جنگ میں دھکیلنا چاہتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس حملے سے پاکستان کو تین چار پیغامات دیئے گئے ہیں، پہلا یہ کہ ہمارا دار الخلافہ اسلام آباد محفوظ نہیں اور دوسرا یہ کہ وہ چاہتے ہیں کہ فرقہ واریت کو بڑھاوا دے کر اس کا فائدہ اٹھایا جائے۔
میجر جنرل (ر) زاہد محمود نے کہا کہ اس سے پہلے یہ دہشت گرد بلوچستان میں لسانی بنیادوں پر بھی کارروائیاں کرچکے ہیں اور میں سمجھتا ہوں ان کی یہ حکمت عملی آگے بھی جاری رہے گی۔
اس کے علاوہ بھارت اور افغان طالبان یہ بتانا چاہ رہے ہیں کہ وہ پاکستان کو حالت جنگ میں ہی رکھنا چاہتے ہیں۔ اگر ہم کرم کوئٹہ اور اسلام آباد کے ہدشت گردی کے واقعات کی کڑیاں جوڑیں تو واضح ہوجاتا ہے کہ یہ کارروائیاں آپریشن سندور ٹو کا حصہ ہیں اور پاکستان اس وقت پراکسی وار کا شکار ہے۔
مزید پڑھیں : خودکش حملہ آور امام بارگاہ تک کیسے پہنچا ؟ اہم انکشافات
واضح رہے کہ گزشتہ روز ترلائی میں مسجد و امام بارگاہ پر حملے کی ابتدائی تفتیشی رپورٹ میں حیرت انگیز انکشاف کیا گیا ہے کہ اس حملے کا ماسٹر مائنڈ ایک افغان شہری تھا جس کو گرفتار کرلیا گیا ہے، خودکش بمبار یاسر گزشتہ ڈھائی سال سے اپنے گھر نہیں گیا تھا۔
خودکش حملہ آور نوشہرہ سے جیکٹ پہنے پبلک ٹرانسپورٹ میں بیٹھ کر اسلام آباد پہنچا، بس اڈے کے قریب ہوٹل میں کچھ دیر آرام کیا پھر کھنہ روڈ سے پیدل امام بارگاہ پہنچ گیا۔
اسلام آباد دھماکے کی تحقیقات میں پتہ چلا ہے کہ 6 کلو بارودی مواد سے دھماکہ کیا گیا۔ خودکش بمبار یاسر چھبیس سال کا تھا، ڈیڑھ سال سے گھرنہیں گیا تھا،کبھی کبھار فون پر گھر والوں سے بات کرلیتا تھا۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


