The news is by your side.

Advertisement

لاہور لہو لہو: اب تک ہونے والے دہشت گرد واقعات

لاہور: ملک بھر میں ایک طویل عرصے سے جاری دہشت گردی نے کوئی شہر ایسا نہ چھوڑا جہاں کے لوگ اپنے پیاروں کی کسی بم دھماکے میں ہلاکت کو نہ روتے ہوں۔ صوبہ پنجاب کا دارالحکومت لاہور بھی دہشت گردوں کی زد میں رہا ہے اور ان کارروائیوں میں اب تک سینکڑوں لاہوری اپنی جانیں قربان کر چکے ہیں۔

لاہور میں ہونے والے مختلف دھماکوں اور دہشت گردانہ کارروائیوں پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔

فروری 2017: رواں سال کے آغاز کے ساتھ پاکستان میں دہشت گردی کی نئی لہر اٹھی جس کا نشانہ لاہور بھی بنا۔

آج صبح لاہور کے علاقے ڈیفنس میں ایک غیر ملکی ریستوران میں ہونے والے دھماکے میں 8 افراد جاں بحق جبکہ 21 زخمی ہوئے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ابتدائی تحقیق کے مطابق بم کو ریستوران کے اندر نصب کیا گیا تھا۔

دوسری جانب حکومتی عہدیداران مصر ہیں کہ دھماکہ جنریٹر پھٹنے یا تعمیراتی کام کے سبب کسی اور وجہ سے ہوا۔

کچھ روز قبل بھی 13 فروری کو پنجاب اسمبلی کے سامنے مال روڈ پر دھماکہ ہوا تھا جس میں ڈی آئی جی ٹریفک اور ایس ایس پی سمیت 13 افراد شہید اور 70 سے زائد زخمی ہوگئے تھے۔

مارچ 2016: 27 مارچ کو پاکستان کی تاریخ کا خوفناک ترین خود کش دھماکہ گلشن اقبال پارک میں ہوا۔ دھماکہ اتوار کے روز ہوا جب لاہوریوں کی بڑی تعداد اپنے بچوں اور اہل خانہ کے ساتھ چھٹی کا دن گزارنے پارک آئی تھی۔

خوفناک دھماکے میں بچوں سمیت 71 افراد جاں بحق ہوئے۔

مارچ 2015: 15 مارچ کو لاہور میں فیروز پور روڈ سے ملحقہ علاقے یوحنا آباد میں کرائسٹ چرچ اور کیتھولک چرچ میں یکے بعد دیگرے دو دھماکے ہوئے۔ خودکش حملہ آور عبادت گاہوں کے اندر جانا چاہتے تھے تاہم دروازے پر روکے جانے کے بعد انہوں نے وہیں خود کو اڑا لیا۔

دھماکوں کے وقت مسیحی افراد اپنی ہفتہ وار عبادت میں مصروف تھے۔ واقعے میں 15 افراد جاں بحق جبکہ 70 کے قریب زخمی ہوئے۔

واقعے کے فوری بعد مشتعل ہجوم نے 2 افراد کو ملزم سمجھ کر زندہ جلادیا تاہم بعد ازاں دونوں افراد بے قصور نکلے۔

فروری 2014: 17 فروری کو لاہور کے علاقے قلعہ گجر سنگھ میں پولیس لائن میں ہونے والے دھماکے میں 7 افراد جاں بحق ہوئے۔

نومبر 2014: 2 نومبر کو پاک بھارت سرحد واہگہ بارڈر پر خودکش دھماکے میں 73 افراد جاں بحق اور رینجرز اہلکاروں سمیت متعدد افراد زخمی ہوگئے۔ دھماکہ اس وقت ہوا تھا جب سرحد پر پرچم اتارنے کی تقریب جاری تھی۔

جولائی 2013: 6 جولائی کو لاہور کے علاقے پرانے انار کلی میں واقع فوڈ اسٹریٹ پر بم دھماکے میں 5 افراد جاں بحق جبکہ متعدد زخمی ہوگئے۔

اپریل 2012: 24 اپریل کو لاہور کے ریلوے اسٹیشن پر دھماکہ ہوا جس میں 5 افراد جاں بحق ہوئے۔

جولائی 2012: 12 جولائی کو 6 سے 8 مسلح حملہ آوروں نے لاہور کے پولیس ٹریننگ ہاسٹل پر حملہ کیا۔ حملے میں 9 پولیس اہلکار جاں بحق جبکہ 8 زخمی ہوگئے۔

ستمبر 2010: یکم ستمبر کو لاہور یکے بعد دیگرے 3 بم دھماکوں سے گونج اٹھا جس میں 38 افراد جاں بحق اور 300 کے قریب زخمی ہوئے۔ دھماکوں کا ہدف محرم الحرام کا جلوس تھا۔

جولائی 2010: یکم جولائی کو دہشت گردوں نے لاہور کی پہچان داتا دربار پر خودکش حملہ کیا۔ مزار کے احاطے میں ہونے والے خودکش بم دھماکے میں 50 افراد جاں بحق اور 200 زخمی ہوگئے۔

مارچ 2010: سنہ 2010 میں مارچ کا مہینہ لاہور کے لیے نہایت المناک رہا جس میں 8 اور 12 مارچ کو خوفناک حملے ہوئے۔ 8 مارچ کو شہر کے سخت سیکیورٹی زون میں واقع ایف آئی اے کی عمارت سے دھماکہ خیز مواد سے بھری گاڑی ٹکرا دی گئی۔

واقعے میں عام شہریوں اور سیکیورٹی اہلکاروں سمیت 13 افراد جاں بحق اور 90 زخمی ہوگئے۔

اسی ماہ کی 12 تاریخ کو رائل آرٹلری بازار کے قریب 2 خودکش حملہ آوروں نے اپنے آپ کو دھماکے سے اڑا دیا۔ حملہ آوروں کا ہدف وہاں سے گزرنے والا سیکیورٹی فورسز کا قافلہ تھا۔

واقعے میں عام افراد اور 10 سیکیورٹی اہلکاروں سمیت 59 افراد جاں بحق جبکہ 100 سے زائد زخمی ہوئے۔

اسی شام لاہور میں اقبال ٹاؤن مارکیٹ میں بھی کم شدت کے 5 بم دھماکے ہوئے جن میں چند افراد معمولی زخمی ہوئے۔ ان دھماکوں کا مقصد لرزہ خیز دھماکوں سے سہمی ہوئی عوام کو مزید خوف میں مبتلا کرنا تھا۔

دسمبر 2009: 7 دسمبر کو علامہ اقبال ٹاؤن کی پرہجوم مون مارکیٹ میں 2 بم دھماکے اور فائرنگ میں 54 افراد جاں بحق ہوئے۔ دہشت گردی کے بدترین واقعے میں 150 افراد زخمی ہوئے۔

اکتوبر 2009: 15 اکتوبر کو لاہور شہر میں 3 حساس اداروں کی عمارتوں کو دہشت گردانہ حملوں کا نشانہ بنایا گیا جن میں ایف آئی اے، مناواں پولیس ٹریننگ اسکول، اور ایلیٹ پولیس اکیڈمی کی عمارت شامل ہیں۔

تینوں حملوں میں 38 افراد جاں بحق ہوئے۔

مئی 2009: 27 مئی کو لاہور میں سٹی پولیس ہیڈ کوارٹر میں بم دھماکے میں 35 افراد جاں بحق اور 250 سے زائد زخمی ہوگئے۔ حملے کی نیت سے داخل ہونے والے تینوں دہشت گرد مارے گئے۔

مارچ 2009: 3 مارچ پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ کے خاتمے کا وہ سیاہ دن تھا جب اس دن سری لنکن کرکٹ ٹیم کو حملے کا نشانہ بنایا گیا۔

مذکورہ روز 12 مسلح افراد نے سری لنکن کرکٹ ٹیم کی بس پر دہشت گردانہ حملہ کرتے ہوئے شدید فائرنگ کی۔ سری لنکن ٹیم پاکستان سے میچز کی سیریز کھیلنے کے لیے پاکستان آئی تھی اور واقعے کے روز یہ ٹیسٹ میچ کھیلنے کے لیے ہوٹل سے قذافی اسٹیڈیم کی جانب جارہی تھی۔

حملے میں سری لنکن ٹیم کے 6 کھلاڑی زخمی ہوئے۔ ٹیم کو بچاتے ہوئے 6 پولیس اہلکاروں نے اپنی جانیں قربان کیں۔ واقعے میں 2 راہ گیر بھی مارے گئے۔

مارچ 2008: 11 مارچ کو دھماکہ خیز مواد سے بھری دو گاڑیاں لاہور میں ایف آئی اے کی بلڈنگ، اور ایک نجی کمپنی کی عمارت سے جا ٹکرائیں۔ واقعے میں 28 افراد جاں بحق جبکہ 350 سے زائد زخمی ہوئے۔

زخمیوں میں اسکول کے 40 بچے بھی شامل تھے جو دھماکے کے باعث اسکول بس کے شیشے ٹوٹنے کے نتیجے میں زخمی ہوئے۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں