The news is by your side.

Advertisement

فرانسیسی میوزیم جعل سازی کے بڑے اسکینڈل کا شکار

ایلنے: فرانسیسی میوزیم جعل سازی کے ایک بڑے اسکینڈل کا شکار ہوگیا، نمائش کے لیے رکھے گئے اٹھارویں صدی کے مصور کے فن پارے جعلی نکل آئے۔

تفصیلات کے مطابق فرانسیسی مصور ایچین ٹیرس کے نام سے منسوب میوزیم میں ان کے تقریباً نصف فن پارے جعلی نکلے، ان فن پاروں کی تعداد 82 ہے جس کے انکشاف کے بعد میوزیم کے منتظمین کو نہایت شرمندگی اٹھانی پڑی۔

مذکورہ فن پاروں کے بارے میں خیال کیا گیا تھا کہ یہ 1857 میں پیدا ہونے والے فرانسیسی پینٹر ایچین ٹیرس نے تخلیق کیے ہیں۔ میوزیم کی انتظامیہ جعل سازی سے بے خبر رہی تاہم ایک تاریخ دان نے میوزیم آکر اس کے بارے میں انھیں آگاہ کیا۔

معلوم ہوا ہے کہ جعلی فن پاروں پر ایک لاکھ ساٹھ ہزار ڈالر لاگت آئی تھی، ایلنے کونسل نے یہ پینٹنگز، ڈرائنگز اور واٹر کلرز عجائب گھر کے لیے 20 برس کے لیے خریدے تھے۔ یہ فن پارے مصورکے مرنے کے بعد بننے والی عمارتوں کی مصوری پر مشتمل تھے۔

فرانسیسی شہری تین چہروں والا دنیا کا واحد شخص

کئی ماہ قبل آرٹ کے ایک ماہر ایرک فورکاڈا نے عجائب گھر سے یہ بتانے کے لیے رابطہ کیا تھا کہ ان کو پینٹگز کی اصلیت پر شکوک و شبہات ہیں، جس پر ماہرین کی ایک ٹیم بٹھائی گئی، جنھوں نے تجزیے کے بعد کہا کہ نصف فن پارے مصور کے بنائے ہوئے نہیں ہیں۔

مقامی میئر نے صورت حال کو تباہ کن قرار دیتے ہوئے میوزیم کے وزیٹرز سے معافی مانگی، تاہم پولیس یہ جعلی فن پارے بنوانے یا فروخت کرنے والے کی تلاش شروع کردی ہے۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں، مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں