معروف شاعر حفیظ جالندھری نے تو اپنے شعر میں نصف صدی کا قصّہ باندھا ہے، لیکن پاکستانی کرکٹ کو دیکھتے ہوئے اگر تین چوتھائی کہہ کر ہم اپنی بات آگے بڑھائیں تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں۔ پاکستان کو ٹیسٹ کرکٹ کا اسٹیٹس 1952 میں ملا تو اس حساب سے ہماری کرکٹ کو تقریبا تین چوتھائی صدی ہونے کو ہے۔
ٹیسٹ کرکٹ کا اسٹیٹس حاصل کیے 74 سال ہوگئے مگر موجودہ کرکٹ ٹیم اور پاکستانی کرکٹ کی تاریخ دیکھیں تو ایک چیز مستقل دکھائی دیتی ہے اور وہ یہ کم ہی کھلاڑی شکریہ کہنے پر راضی ہوئے، یعنی اپنی خواہش سے اور اچھی کارکردگی کے ساتھ کرکٹ کی دنیا کو خیرباد کہنے پر کم نام ہی تیار ہوئے۔ دنیا کے دیگر ملکوں خصوصا آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، انگلینڈ، ساؤتھ افریقہ اور اب بھارت سے تعلق رکھنے والے زیادہ تر کھلاڑی بھی اپنی کارکردگی کو گرتا محسوس کرتے ہوئے کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کر دیتے ہیں۔
یہ معاملہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے پاکستان کے دیگر محکموں اور شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد عہدہ چھوڑنے میں ہچکچاہٹ محسوس کرتے ہیں یا پھر میرٹ کو نظر انداز کرتے ہوئے باگ ڈور اپنی اگلی نسل کے سپرد کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔
جارح مزاح آسٹریلوی وکٹ کیپر بیٹر ایڈم گلکرسٹ کا نام کرکٹ کا ہر دیوانہ جانتا ہوگا۔ اپنے ایک انٹرویو میں انھوں نےاعتراف کیا کہ جب بھارت کے خلاف 24 جنوری 2008 کو ٹیسٹ میچ کے پہلے دن لکشمن کا ایک آسان کیچ چھوڑا تو گیند زمین پر گرنے سے پہلے ہی انھوں نے محسوس کر لیا کہ اب کھیل کو چھوڑنے کا وقت آگیا ہے۔ گلکرسٹ کے مطابق جب انھوں نے سلپ میں موجود ساتھی کھلاڑی میتھوہیڈن سے یہ جملہ کہا تو انھوں نے کہا کہ یہ کوئی پہلا کیچ تو نہیں۔ مگر گلکرسٹ نے اندازہ لگا لیا کہ اب ان کا مزید رہنا ٹیم پر بوجھ بنے گا جبکہ ایک سال قبل ہی انھوں نے سری لنکا کے خلاف ورلڈ کپ فائنل میں شاندار 149 رنز کی میچ وننگ برق رفتار اننگز کھیلی تھی۔ ایسی پرفارمنس دینے والا چند ہی مہینوں بعد کرکٹ چھوڑ دے ایسا کم ہی دیکھنے میں آتا ہے۔
پاکستان کی کرکٹ میں تو ایسی مثال شاذ ہی ہو، قریب تر ایسی مثال یونس خان اور مصباح الحق کی 2017 میں ویسٹ انڈیز کے خلاف تاریخی فتح کے بعد ٹیسٹ کرکٹ سے رٹائرمنٹ تھی۔ تاہم وائٹ بال فارمیٹ سے ان کی علیحدگی مثالی نہیں رہی۔ حالیہ تاریخ میں اسد شفیق بھی کچھ ایسے قومی کھلاڑیوں میں نظر آتے ہیں جنھوں نے بری کارکردگی پر ٹیسٹ ٹیم سے ڈراپ ہونے کے بعد ڈومیسٹک میں عمدہ پرفارمنس دی مگر ان الفاظ کے ساتھ کرکٹ چھوڑی کہ جانے کا وقت آگیا ہے اور اب کسی نئے کھلاڑی کو ٹیم میں آنا چاہیے۔
اپنی ابتدائی تاریخ میں حنیف محمد، فضل محمود، حفیظ کاردار سے لے کر ستّر کی دہائی میں مشتاق محمد، ظہیر عباس، ماجد خان، عمران خان اور جاوید میانداد، عبد القادر جیسے کئی سپر اسٹارز پاکستان کرکٹ نے دیے۔ اور یہ سلسلہ وسیم اکرم، وقار یونس، انضمام الحق، معین خان، محمد یوسف، یونس خان، شعیب اختر، شاہد آفریدی اور دیگر نے خوب نبھایا۔
ماضی قریب میں محمد عامر، سرفراز احمد اور موجودہ ٹیم میں بابراعظم کسی طور پر دنیائے کرکٹ کے بڑے ناموں سے پیچھے نہیں اور ان کی پاکستان کیلیے خدمات یقینی طور پر سنہرے حروف میں لکھی جائیں گی مگر یہاں ایک چیز جو افسوس ناک ہے وہ یہ کہ ہمارے زیادہ تر کھلاڑیوں نے خود کرکٹ چھوڑنے کا فیصلہ نہیں کیا یا تو انھیں زبردستی ٹیم سے باہر کیا گیا یا پھر ایسے حالات بنا دیے گئے کہ انھیں کرکٹ چھوڑنی پڑی۔
بات صرف کھلاڑیوں تک نہیں کرکٹ کی گورننگ باڈی اور مینجمنٹ سمیت اہم شخصیات کا ناراض ہونا بھی کبھی کبھی کھلاڑیوں کی ٹیم سے قبل از وقت علیحدگی کا سبب بن جاتا ہے۔ اس کی حالیہ مثال محمد عامر اور وہاب ریاض کی ہے جنھوں نے اس سچ کے اعتراف کے ساتھ ٹیسٹ کرکٹ کو کچھ عرصے کیلئے چھوڑنا بہتر سمجھا کہ اس سے ان کی ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی کارکردگی متاثر ہو رہی ہے۔ آسان الفاظ میں سمجھا جائے تو وہ خود کو طویل دورانیہ کی کرکٹ کیلیے جسمانی و ذہنی طور پر فٹ محسوس نہیں کر رہے تھے مگر اس وقت کی انتظامیہ اس قدر ناراض ہوئی کہ دونوں خصوصا محمد عامر کو احسان فراموش ہونے تک کا طعنہ دے کر ٹیم سے باہر کر دیا گیا اور عامر کے کئی اہم سال جو کرکٹ پاکستان کیلیے فائدہ مند ہو سکتے تھے ضائع ہوئے۔
اب آتے ہیں موجودہ ٹیم کی کارکردگی پر۔ کچھ کھلاڑی ایسے ہیں جن کی کارکردگی میں نمایاں کمی آئی ہے اور اس اوسط درجے کی کارکردگی کا سلسلہ مہینوں نہیں بلکہ ایک دو سال سے زائد ہے مگر شاید وہ اس بات کو تسلیم کرنے کو تیار نہیں کہ اب جگہ خالی کر دینی چاہیے۔ ان پروفیشنل کرکٹرز کی سوچ یقینا کسی بھی عام کرکٹ فین سے کہیں زیادہ ہوگی مگر خود احتسابی کی کمی نظر آتی ہے۔ یہ شاید ایسا گمان ہے جیسے میرے بعد کیا ہوگا تو یہ بات کرکٹ سمیت کسی بھی کھیل یا شعبہ زندگی کو دیکھنے کی محدود سوچ کے مترادف ہے۔
ایک کرکٹ مداح ہونے کے ناتے میں سمجھتا ہوں کہ ہمارے کرکٹ ہیرو بھی اپنےعروج یا پرفارمنس کو آمادۂ زوال پائیں تو اسی مرحلے پر کرکٹ کو خیر باد کہہ دیں تاکہ جو عزت انھوں نے اپنےعروج کے دور میں پائی وہی ریٹائرمنٹ کے وقت اور زندگی بھر ساتھ رہے۔


