امریکا کی ریاست ٹیکساس میں ایک امریکی خاتون پر 3 سالہ مسلم بچی کو ڈبو کر قتل کرنے کی کوشش کا جرم ثابت ہوگیا، خاتون کو 5 سال قید کی سزا سنادی گئی۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق امریکی ریاست ٹیکساس میں خاتون پر 3 سالہ فلسطینی نژاد امریکی بچی کو نسلی بنیادوں پر قتل کرنے کی کوشش کا جرم ثابت ہوگیا جس پر جج اینڈی پورٹر نے 43 سالہ الزبیتھ وولف کو 5 سال قید کی سزا سنادی۔
رپورٹس کے مطابق مذکورہ واقعہ مئی 2024ء میں پیش آیا تھا جس میں مسلم بچی شدید زخمی ہوگئی تھی۔
امریکی خاتون (ملزمہ) نے عدالتی کارروائی کی دوران بچی کو قتل اور زخمی کرنے کی کوشش کا جرم بھی قبول کرلیا تھا۔
اس سے قبل برطانیہ میں رونما ہونے والے ایک اور واقعے میں ایک مسلمان خاندان اس وقت شدید صدمے اور خوف سے دوچار ہوگیا جب انہوں نے اپنے گھر کے دروازے کے باہر حرام اور نجس جانور خنزیر کا خون آلود سر پڑا ہو دیکھا۔
متاثرہ اہل خانہ کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ ایک انتہائی خوفناک نفرت انگیز جرم ہے، یہ کریہہ اور ناپاک عمل خاص طور پر بحیثیت مسلمان ہمیں ہراساں کرنے کیلیے کیا گیا ہے۔
اس حوالے سے رضوی خاندان کے ایک فرد نے پولیس اور میڈیا کو دیے گئے بیان میں بتایا کہ یہ واقعہ 14 ستمبر کی صبح پیش آیا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ عمل دانستہ طور پر کیا گیا ہے کیونکہ ہم اپنے محلے میں واحد مسلمان خاندان ہیں اور ہمارے گھر کی دہلیز پر خنزیر کا سر اور خون دیکھنا ایک نہایت افسوسناک اور خوفناک منظر تھا۔
بھارتی فارما کمپنی کے کف سیرپ پینے سے 8 بچوں کی جان چلی گئی
متاثرہ مسلمان خاندان کی ایک خاتون نے کہا کہ انتہا پسند عناصر ہمیں خوفزدہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جس کیلیے ہمارا مطالبہ ہے کہ ہمیں فوری طور پر تحفظ فراہم کیا جائے اور اس عمل میں ملوث افراد کیخلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


