The news is by your side.

Advertisement

لاہور میں ٹیکسٹائل مصنوعات کی چار روزہ نمائش کامیابی سے جاری

لاہور : پاکستان کی ٹیکسٹائل مصنوعات کی چار روزہ نمائش ٹیکسپو2019 ایکسپو سینٹر لاہور میں تیسرے روز بھی جاری رہی، جس میں 53 ممالک سے بزنس مندوبین اور پاکستان کے بڑے شہروں سے230ٹیکسٹائل کاروباری نمائش کنندگان نے شرکت کی۔

اس چار روزہ نمائش ٹیکسپو میں ملک کے بڑے برانڈز کی مصنوعات کے اسٹالز بھی لگائے گئے ہیں، نمائش میں ریڈی میڈ گارمنٹس، تولیے، بیڈ شیٹس، لیدر، فیشن گارمنٹس اور دیگر مصنوعات شامل ہیں۔

گزشتہ روز کانفرنس سے ٹیکسٹائل انڈسٹری سے منسلک شرکا نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے ٹیکسٹائل مصنوعات کو درپیش مسائل اور اس کے فروغ کے لئے تجاویز پیش کیں اور اس کی ایکسپورٹ اور امپورٹ کے حوالے سے باہمی تجارت کی ضرورت پر زور دیا۔

کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین ٹاسک فورس برائے ٹیکسٹائل ڈاکٹر سلمان شاہ نے کہا کہ کپڑے کی صنعت پاکستان میں بہت اہم ہے،کپڑے کی برآمدات 45 فیصد ہیں جبکہ ملک کی کل معیشت کا 51 فیصد کپڑے کی صنعت سے وابستہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ کپڑے کی صنعت میں پچاس فیصد کپاس کا کردار ہے، کپڑے کی صنعت کی برآمدات میں چین سب سے آگے دوسرے نمبر پر بھارت کا چار اعشاریہ سات، بنگلہ دیش کا چار اعشاریہ چھ اور15ویں نمبر پر پاکستان کا ایک اعشاریہ سات فیصد حصہ ہے۔

ڈاکٹر سلمان شاہ نے کہا کہ چین میں ورکر کی ڈیلی ویجپاکستان کی نسبت بہت زیادہ ہے یہی وہ نقطہ جس سے سی پیک میں پاکستان کو فائدہ لینا چاہیے اور اسی پر غیر ملکی صنعت کاروں کو چین سے پاکستان شفٹ کیا جا سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی کل برآمدات کا 57 فیصد ٹیکسٹائل پر مشتمل ہے جبکہ عالمی سطح پر ہونے والی برآمدات میں پاکستان کا حصہ 2 فیصد سے بھی کم ہے۔

انہوں نے کہا کہ برآمدات کو بہتر بنانے کے لئے ہم مختلف رپورٹس کا جائزہ لے رہے اور اپنی پوزیشن کا اندازہ کر رہے ہیں، ٹیکسپو پاکستان کا سافٹ امیج بھی بہتر بنائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ملک کو بڑے چیلنجز کا سامنا ہے جس میں ٹریڈ پروموشن اور ایکسپورٹ بھی شامل ہے جس سے نمٹنے کے لئے تمام اسٹیک ہولڈرز سے مل کر کام کرہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومتی سطح پر یہ چار روزہ نمائش اپنی اہمیت کے لحاظ سے بہت بڑی نمائش ہے جس کے لئے بیرون ممالک میں کمرشل اتاشیوں نے بھی اہم کردار ادا کیا جبکہ اس نمائش کے انعقاد میں پنجاب حکومت سمیت دیگر تمام اداروں نے بھی معاونت کی ہے،انہوں نے کہا کہ2016کے بعد یہ دوسری بڑی نمائش ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں