The news is by your side.

ٹیکسٹائل انڈسٹری تباہی کے دہانے پر، تاجروں کی دہائیاں

اسلام آباد: سیاسی چپقلش اور ابتر معاشی صورت حال کے باعث ملکی برآمدات میں کمی کا سلسلہ جاری ہے۔

ادارہ شماریات کے مطابق زبوں حالی کا شکار ٹیکسٹائل برآمدات میں ایک بارپھر کمی واقع ہوئی ہے، صرف ماہ دسمبر میں 16.47 ریکارڈ کی گئی۔

گزشتہ مالی سال اس عرصے میں برآمدات ایک ارب 62 کروڑ 34 لاکھ ڈالرزتھیں،جولائی تادسمبر ٹیکسٹائل گروپ کی برآمدات میں 7.07 فیصد کمی ہوئی۔

ادارہ شماریات کا کہنا ہے کہ دسمبر میں خام کپاس کی برآمدات میں 100 فیصد کمی ہوئی جبکہ گزشتہ مالی سال کے اس عرصےمیں خام کپاس کی برآمدات 17لاکھ 76ہزارڈالرزتھیں۔

واضح ریے کہ گزشتہ چار ماہ سے ٹیکسٹائل اور کپڑوں کی برآمدات میں مسلسل کمی کی وجہ توانائی کے اخراجات میں اضافہ، ری فنڈز میں تاخیر اور روپے کی قدر میں کمی ہے۔

برآمد کنندگان کا خیال ہے کہ برآمدات میں کمی کی اصل وجہ زر مبادلہ کی شرح میں عدم استحکام ہے، اس کے علاوہ حکومت کا مقامی ٹیکسوں اور لیویز پر ڈیوٹی ڈرابیک ختم کرنے سے برآمدی شعبے کو رقم میں کمی کے مسائل کا سامنا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: روزانہ دہی استعمال کرنے والے ہوجائیں ہ

واضح رہے کہ ایک ہفتے قبل آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن نے ایل سیز نہ کھولنے کی صورت میں ٹیکسٹائل صنعت بند ہونے کا خدشہ ظاہر کیا تھا۔

آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن کی جانب سے وزیر خزانہ کو خط لکھے گئے خط میں کہا گیا ہےکہ کاٹن ختم ہوگئی، درآمد کرنا چاہتے ہیں مگر ایل سیزنہیں کھولنے دی جارہیں، ایل سیزنہ کھولی گئیں تو ٹیکسٹائل صنعت بند ہوجائے گی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں