کراچی: بجٹ سے قبل ٹیکسٹائل سیکٹر نے حکومت سے چند سوالات کرلیے ہیں۔
اے آر وائی نیوز کے مطابق چیئرمین پاکستان ٹیکسٹائل کونسل فواد انور کریم نے کہا کہ استحکام ترقی نہیں ہے، پاکستان کی معاشی کہانی کا اگلا باب برآمدات کے ذریعے لکھا جانا چاہیے، بجٹ 2026-27 کو حکومت کے اعلان کردہ عزم کو پاکستان کی سب سے بڑی برآمدی صنعت کے لیے ٹھوس ریلیف میں تبدیل کرنا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ اے آئی کا لفظ استعمال کرنے سے پیداواری صلاحیت نہیں بڑھ جاتی، حکومت کو پیداواری صلاحیت بڑھانے کے لیے سازگار ماحول فراہم کرنا ہوگا۔
فواد انور نے کہا کہ سوال یہ ہے کہ کیا ہماری ترجیحات ترقی، برآمدات، صنعت کاری اور مسابقت کے ساتھ ہم آہنگ ہیں یا ایک اور بجٹ گزر جائے گا جبکہ ہمارے حریف آگے نکل جائیں گے؟ مالی گنجائش موجود ہے تجاویز دستاویزی شکل میں موجود ہیں انڈسٹری تیار ہے۔ اب صرف اس حکومت کی ضرورت ہے جو اپنے الفاظ کو اعداد و شمار میں ڈھالے اس سے پہلے کہ عالمی سپلائی چین کی تبدیلی کا یہ مختصر موقع ہمیشہ کے لیے بند ہو جائے۔
انہوں نے کہا کہ انڈسٹریز اپنے منافع سے 61 سے 62 فیصد ٹیکسز دے دیتی ہیں، ملک جو سرمایہ کاری اس وقت کررہے ہیں وہ سوچ رہے ہیں کہاں جائیں، کون ملک میں آکر سرمایہ کاری کرے گا۔
یہ پڑھیں: ’’ٹیکسٹائل سیکٹر میں برطرفیوں اور فیکٹریوں کی بندش کا خطرہ بڑھ گیا‘‘
فواد انور نے کہا کہ حکومت کو بتانا چاہیے کہ چار فیصد گروتھ لانے کی وجوہات کیا ہیں، حکومت سازگار ماحول اور پالیسی نہیں دے رہی تو گروتھ 4 فیصد کیسے ہوگی۔
چیئرمین پاکستان ٹیکسٹائل کونسل نے کہا کہ ایکسپورٹ بہتر کرنے کے لیے حکومت کو اقدامات کرنا ہوں گے، حکومت صرف ایک سال کا ٹارگٹ رکھ کر چل رہی ہے کہ ہمیں اتنے پیسے جمع کرنا ہے، بہت سی کمپنیاں بند ہوگئیں اب لگ رہا مزید بھی بند ہونے کی طرف جائیں گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ طویل المدتی پالیسیاں نہیں ہوں گی تو بحران مزید بڑھتا رہے گا۔


