تہران: آبنائے ہرمز میں تھائی پرچم بردار سمیت مزید تین جہاز نشانہ بن گئے، جس میں عملےکے 3 ارکان لاپتہ ہیں۔
تفصیلات کے مطابق اسٹریٹجک اہمیت کی حامل آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کی سیکیورٹی کی صورتحال مزید خراب ہو گئی ہے۔
گزشتہ چند گھنٹوں کے دوران تھائی لینڈ، جاپان اور مارشل آئی لینڈ کے جہازوں کو نشانہ بنایا گیا ہے، جس کے بعد اس اہم بحری گزرگاہ میں متاثرہ جہازوں کی مجموعی تعداد 14 تک پہنچ گئی ہے۔
تھائی حکام نے بتایا کہ تھائی لینڈ کے ایک کارگو جہاز کو نامعلوم "پروجیکٹائل” سے نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں جہاز کے انجن روم میں خوفناک آگ لگ گئی، جہاز پر موجود عملے کے 20 ارکان نے لائف بوٹس کے ذریعے سمندر میں کود کر اپنی جان بچائی تاہم انجن روم میں ڈیوٹی پر مامور 3 ارکان لاپتہ ہیں جن کی تلاش جاری ہے۔
جاپان کے ایک جہاز کو راس الخیمہ کے قریب پروجیکٹائل لگا جس سے اسے نقصان پہنچا، اس جہاز کو دبئی کے ساحل کے قریب نشانہ بنایا گیا ہے۔
دوسری جانب، ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے آبنائے ہرمز میں دو مزید بحری جہازوں کو فائرنگ کر کے روکنے کا دعویٰ کیا، روکے گئے جہازوں میں سے ایک اسرائیل کی ملکیت ہے جبکہ دوسرا لائبیریا کے جھنڈے تلے رجسٹرڈ ہے۔
ایرانی حکام کا موقف ہے کہ ان جہازوں نے آبنائے ہرمز سے "غیر قانونی طور پر” گزرنے کی کوشش کی تھی، جس پر کارروائی عمل میں لائی گئی۔
خیال رہے آبنائے ہرمز میں جہازوں کے مسلسل نشانہ بننے اور ایران کی جانب سے جہاز روکنے کے واقعات نے عالمی سپلائی چین اور تیل کی قیمتوں کے حوالے سے بین الاقوامی برادری میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


