The news is by your side.

Advertisement

پارلیمنٹ میں جذباتی تقریر کے بعد رکن پارلیمنٹ نے اپنا ہاتھ کاٹ لیا

بنکاک: تھائی لینڈ میں حزب اختلاف کے رہنما نے پارلیمنٹ میں پرجوش تقریر کرنے کے بعد احتجاجاً اپنا ہاتھ کاٹ لیا، تھائی لینڈ میں اس وقت شدید مظاہرے جاری ہیں جنہیں روکنے کے لیے ایمرجنسی کا نفاذ بھی کیا جاچکا ہے۔

بین الاقوامی میڈیا کے مطابق مذکورہ رکن پارلیمنٹ نے اجلاس میں نہایت پرجوش تقریر کی جس میں انہوں نے تھائی وزیر اعظم پر سخت تنقید کی۔ پارلیمنٹ کا یہ خصوصی اجلاس ملک میں کئی ماہ سے جاری مظاہروں اور احتجاجی صورتحال پر غور کے لیے بلایا گیا تھا۔

اپنی تقریر میں رکن پارلیمنٹ نے کہا کہ وزیر اعظم ملک میں جاری جمہوری احتجاج کو نظر انداز کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وہ ان مظاہروں میں (ملک کے) بچوں کا خون بہتے نہیں دیکھنا چاہتے، میں ان کا ساتھ دینے کے لیے یہاں اپنا خون بہاؤں گا۔ وزیر اعظم ظالم بنیں گے یا قوم کے ہیرو بننا چاہیں گے؟

اس کے بعد انہوں نے کوٹ اتار کر شرٹ کا آستین موڑا، وہاں سے ایک چھری برآمد کی اور پے در پے اپنے بازو پر کئی وار کیے۔

ان کی اس احتجاجی حرکت کے بعد پارلیمنٹ میں ہلچل مچ گئی، دیگر ارکان ان کی مدد کو لپکے۔ پارلیمنٹ میں موجود طبی عملے نے انہیں ابتدائی امداد بھی دی۔

خیال رہے کہ تھائی لینڈ میں رواں برس جولائی میں ایک احتجاجی تحریک شروع ہوئی جس میں ملک میں موجود شاہی نظام میں اصلاحات کرنے کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔ تھائی لینڈ میں شاہی نظام ایک حساس معاملہ ہے اور اس کے خلاف آواز اٹھانے والوں کو سزائیں دی جاتی ہیں۔

اس احتجاجی تحریک کی قیادت ملک کے نوجوان طلبا کر رہے ہیں۔ احتجاج کو روکنے کے لیے رواں ماہ حکومت نے ملک میں ایمرجنسی کا نفاذ بھی کردیا تھا جس کے تحت 4 سے زائد افراد کے اجتماع پر پابندی عائد ہے۔

تاہم ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد مظاہروں میں مزید شدت آگئی۔

اس صورتحال پر غور کرنے کے لیے پارلیمنٹ کا خصوصی اجلاس منعقد کیا گیا تھا جس میں ملک کی سب سے بڑی اپوزیشن پارٹی نے تھائی وزیر اعظم سے استعفے کا مطالبہ کیا۔

اپوزیشن لیڈر کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم اس ملک پر ایک بوجھ بن گئے ہیں، براہ مہربانی آپ استعفی دیں تاکہ یہ مظاہرے احسن طریقے سے ختم ہوجائیں۔

تھائی لینڈ میں ہونے والے حالیہ مظاہروں کو ملک کی تاریخ کے سب سے بڑے مظاہرے قرار دیا جارہا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں