The news is by your side.

Advertisement

کیا آپ ایک ’زومبی‘ سے خریداری کریں گے؟

بنکاک: تھائی لینڈ میں خاتون نے مُردوں کے کپڑے فروخت کرنے کے لیے ’زومبی‘ کا روپ دھار لیا۔

غیرملکی خبررساں اداے کی رپورٹ کے مطابق ناردرن تھائی لینڈ کی 32 سالہ خاتون کنیتھا تھونگنیک نے مردہ افراد کے کپڑے فروخت کرنے کے لیے ’زومبی‘ کا روپ دھار کر سوشل میڈیا صارفین کی توجہ اپنی جانب مبذول کروالی۔

کنیتھا نے زومبی کا روپ دھار کر آن لائن کپڑے فروخت کرنے کا سلسلہ شروع کیا تو سوشل میڈیا پر صارفین کی تعداد میں اضافہ ہوتا چلا گیا۔

رپورٹ کے مطابق کنیتھا کو رات کے ہر سیشن سے پہلے اپنا ڈراؤنا میک اپ کرنے کے لیے تین گھنٹے درکار ہوتے ہیں، سیشنز کے دوران وہ خریداروں کو یہ بھی بتاتی ہیں کہ کپڑوں کے مالکان کی موت کیسے ہوئی۔

کنیتھا نے ہفتہ وار فیس بک لائیو سیشن کی تیاری کے دوران بتایا کہ ’تمام کپڑے مردہ لوگوں کے ہیں جو مختلف وجوہات کی بنا پر ہلاک ہوگئے تھے۔

خاتون کا کہنا تھا کہ ڈراؤنا میک اپ کرنے کے لیے انہوں نے انٹرنیٹ کا سہارا لیا، کنیتھا کے مطابق جب انہوں نے زومبی کا میک اپ کرنا شروع کیا تو صارفین کی تعداد میں 5 سے 6 ہزار تک اضافہ ہوا۔

زومبی کا روپ دھارنے والی خاتون کا کہنا تھا کہ ملبوسات کی اشیا 100 بھات (236 روپے) تک میں فروخت ہوتی ہیں، ان کا کہنا تھا کہ ڈیزائنر کے ٹکڑوں سمیت تمام اشیاء کم قیمت پر فروخت کی جاتی ہیں۔

کنیتھا کی ایک خاتون گاہک کا کہنا تھا کہ ’وہ کنیتھا سے اپنے اور شوہر کے لیے خریداری کرتی ہیں، جب ان سے یہ پوچھا گیا کہ مردہ افراد کے کپڑے پہننا کیسا لگتا ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ ’یہ عام لباس کی طرح ہے۔‘

کنیتھا مُردہ لوگوں کے کپڑوں کے علاوہ ڈراؤنی گڑیا (زومبی گڑیا ڈول) بھی فروخت کرتی ہیں۔

تھائی خاتون کا کہنا تھا کہ یہ صارفین پر منحصر ہے کہ وہ کپڑے خریدنا چاہتے ہیں یا نہیں، اگر وہ خریدنا چاہتے ہیں تو وہ خریدیں گے اور خوفزدہ نہیں ہوں گے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں