بنکاک : تھائی لینڈ نے بھارت کیلئےویزا فری انٹری ختم کرتے ہوئے نئی امیگریشن پالیسی نافذ کر دی، اب بھارتی سیاح عارضی ویزا استثنیٰ اسکیم کے تحت بغیر ویزا کے تھائی لینڈ میں داخل نہیں ہو سکیں گے۔
تفصیلات کے مطابق بھارت کی نام نہاد سیاحتی سفارت کاری کو عالمی سطح پر اس وقت ایک اور بدترین دھچکا لگا ہے جب تھائی لینڈ کی حکومت نے بھارتی شہریوں کے لیے ویزا فری انٹری کی سہولت کو مستقل طور پر ختم کر دیا ہے۔
اپنی بدتہذیبی، غیر اخلاقی حرکات اور ناقص معاشرتی شعور کی بدولت دنیا بھر میں ہزیمت کا باعث بننے والے بھارتی سیاحوں کے لیے تھائی لینڈ نے اب سخت ترین امیگریشن قوانین نافذ کر دیے ہیں، جس نے مودی سرکار کے عالمی اثر و رسوخ کے دعوؤں کا پول کھول دیا ہے۔
معروف بین الاقوامی جریدے ‘اکنامک ٹائمز’ کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ تھائی لینڈ کی حکومت نے اپنے امیگریشن قوانین کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد ویزا پالیسی میں یہ بڑی تبدیلیاں کی ہیں۔
نئی پالیسی کے تحت بھارت کو اب ‘ویزا فری’ ممالک کی فہرست سے نکال کر دوبارہ ‘ویزا آن ارائیول’ کی فہرست میں ڈال دیا گیا ہے، بھارتی سیاح اب سال 2024ء میں متعارف کروائی گئی عارضی ویزا استثنیٰ اسکیم کے تحت بغیر ویزا کے تھائی لینڈ میں داخل نہیں ہو سکیں گے۔
اکنامک ٹائمز کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ تھائی حکومت کی جانب سے اچانک اس سخت فیصلے کے پیچھے بھارتی شہریوں کی جانب سے ویزا قوانین کا بڑے پیمانے پر غلط استعمال، تھائی لینڈ میں غیر قانونی ملازمتوں کا حصول اور سنگین سکیورٹی خدشات شامل ہیں۔
اس کے ساتھ ساتھ، دفاعی اور سماجی ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا کے بیشتر سیاحتی ممالک میں بھارتی سیاحوں کی جانب سے کی جانے والی غیراخلاقی حرکات، بدتمیزی اور مقامی قوانین کی خلاف ورزیوں نے بھی بھارتی معاشرے کی نام نہاد ‘تہذیب’ کا پردہ چاک کر دیا ہے، جس کے بعد اب بین الاقوامی سطح پر بھارتی شہریوں کی اسکرونٹی سخت کی جا رہی ہے۔
تھائی لینڈ کا یہ اقدام مودی سرکار کے لیے ایک بہت بڑا سفارتی دھچکا تصور کیا جا رہا ہے۔
لئیق الرحمن دفاعی اور عسکری امور سے متعلق خبروں کے لئے اے آروائی نیوز کے نمائندہ خصوصی ہیں


