تھرمیں ڈرپ اری گیشن سسٹم کے ذریعے پہلا فروٹ فارم قائم -
The news is by your side.

Advertisement

تھرمیں ڈرپ اری گیشن سسٹم کے ذریعے پہلا فروٹ فارم قائم

صحرائے تھر 50 ہزار مربع کلومیٹر پر پھیلا وسیع و عریض علاقہ ہے جہاں تا حدِ نگاہ صرف ریت ہی ریت دکھائی دیتی ہے، لیکن اب اسی صحرا کے چند محدود گوشوں میں منظر بدل رہا ہے، اور وہاں خوشحالی سبزے کی شکل میں لہرانا شروع ہوچکی ہے۔

دریائے سندھ کے پانی سے سیراب ہونے والے صوبہ سندھ کا علاقہ تھر ایک قدرتی صحرا ہے اور اس کا شمار دنیا کے ساتویں بڑے صحرا کے طور پر ہوتا ہے۔ ڈیڑھ لاکھ مربع کلو میٹر کا علاقہ بھارت میں جبکہ لگ بھگ 50 ہزار مربع کلومیٹر کا علاقہ پاکستان میں ہے۔ یہاں کا سب سے اہم مسئلہ غربت ہے جس کی وجہ یہاں کے رہائشیوں کی معیشت کا غیر متوازن ہونا ہے ۔

یہاں کے باشندوں کی معیشت کا دارومدار مویشیوں اور بارانی زراعت پر ہے،جس سال مون سون کے موسم میں بارشیں 150ملی میٹرسے کم ہوں، یہاں گوار اور باجرے کی فصل خراب ہوجاتی ہے اور قدرتی گھاس بھی نہیں اگ پاتی جس کے سبب مویشی اور مور مرنا شروع ہوجاتے ہیں۔

یہاں کی مقامی آبادی بالخصوص بچے غربت اور غذائی قلت کے سبب سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں اور ہر سال ہزاروں بچے موت کی آغوش میں چلے جاتے ہیں۔ تھر واسیوں کے اس بنیادی مسئلے کے حل کے لیے کراچی کے سماجی کارکنوں کی ایک تنظیم ’دعا فاؤنڈیشن‘ نے صحرائے تھر میں زیرِ زمین پانی سے کاشت کاری اور فروٹ فارمنگ کا آغاز کیا ہے۔

اس تنظیم نے گذشتہ دوسالوں میں تھر کی تحصیل کلوئی ، ڈپلو اور نگرپارکر میں تیس ایگروفارم منصوبے بنا کر مقامی لوگوں کے حوالے کئے ہیں اور ان ایگروفارمزمیں گندم، کپاس، سرسوں اور پیاز جیسی فصلیں زیرِ زمین پانی کو استعمال میں لاتے ہوئے کامیابی سے کاشت کی جارہی ہیں۔

حال ہی میں دعا فاونڈیشن نے پاک بھارت سرحد کے ساتھ واقع تھر کی دور دراز اور سب سے پس ماندہ تحصیل ڈاہلی میں ایک ماڈل ایگرو وفروٹ فارم بنایا ہے۔ اس فروٹ فارم کی تعمیر کے لیےڈاہلی کے گوٹھ سخی سیار کے ایک سرکاری اسکول ٹیچرشہاب الدین سمیجو کی آبائی زمین پر پہلے ساڑے چار سو فٹ بورنگ کروائی گئی۔

پانی نکالنے کے لئے سولرسسٹم نصب کیا گیا اورتین ایکڑزمین پرڈرپ اری گیشن سسٹم کی تنصیب کی گئی۔ ڈرپ سسٹم کی تنصیب میں عمر کوٹ میں واقع پاکستان ایگری کلچر ریسرچ کونسل کے ایرڈ زون ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کےڈاکٹر عطاء اللہ خان اور انجینئر بہاری لال نے تیکنکی مدد فراہم کی۔

یہ تھرپارکر کاپہلا فروٹ فارم ہے جہاں کھجور اور بیر کے دو دو سو، اور زیتون اور انار کے سو سو پودے لگائے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ جنگل جلیبی اور سوہاجنا کے بھی 25،25 پودے لگائے گئے ہیں اور اب یہ پودے آہستہ آہستہ پھلنا پھولنا شروع ہوگئے ہیں۔

تنظیم کے جنرل سیکریٹری ڈاکٹر فیاض عالم کا کہنا ہے کہ تھرپاکر میں زیر زمین پانی سے کئی علاقوں میں نہ صرف محدود پیمانے پر کاشت کاری ہوسکتی ہے بلکہ ڈرپ اری گیشن سسٹم کے ذریعہ بڑے پیمانے پر پھلوں کےدرخت لگا کرعلاقے کے لوگوں کی معیشت کو بہتر بھی بنایا جاسکتا ہے۔انہوں نے بتایا کہ زیتوں کے پودے اسپین کی نسل کے ہیں اور اسلام آباد کی ایک نرسری سے منگوائے گئے ہیں جبکہ کھجور کےدرخت اصیل نسل کے ہیں اور خیر پور سے منگوائے گئے ہیں۔

ڈاکٹر فیاض نے یہ بھی بتایا کہ سندھ حکومت زراعت کو فروغ دینے کے لیے ڈرپ اری گیشن سسٹم اورسولر سسٹم کی تنصیب پر کسانوں کوساٹھ فیصد سبسڈی بھی دے رہی ہے لیکن ہمیں اس سہولت کے بارے میں معلومات نہیں تھیں، تاہم اپنے اگلے منصوبوں کے لئے ہم یہ سبسڈی حاصل کرنے کی پوری کوشش کریں گے۔

تھر میں فروٹ فارمنگ کا آغاز ریت کے اس سمندر میں ایک سرسبز اور صحت مند مستقبل کی نشانی ہے اور امید ہے کہ جب یہ درخت تناور ہوکر پھل دینا شروع کردیں گے تو یہاں کے لوگوں کی زندگیوں میں انقلاب برپا ہوجائے گا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں