تھرپارکر: مٹھی کے اسپتال میں مزید سات بچے دم توڑ گئے، تعداد 550تک جا پہنچی -
The news is by your side.

Advertisement

تھرپارکر: مٹھی کے اسپتال میں مزید سات بچے دم توڑ گئے، تعداد 550تک جا پہنچی

تھرپارکر : سندھ میں غذائی قلت کے سبب بچوں کی ہلاکتوں کا سلسلہ تھم نہ سکا، مٹھی کے اسپتال میں مزید سات بچے دم توڑ گئے، رواں سال اب تک پانچ سو سینتالیس بچے لقمہ اجل بن چکے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق سندھ کے سب سے بڑے ضلع تھرپارکر میں خشک سالی، قحط کے باعث غذائی قلت اور وبائی امراض نے ڈیرہ جما لیا، مٹھی کے اسپتال میں سات شیر خوار بچے دم توڑ گئے، اب تک ان کی تعداد 550تک جاپہنچی ہے۔

؎تھر کے صحرا میں موت کا رقص جاری ہے، غذائی قلت سے مزید7ماؤں کی گودیں اجڑ گئیں رواں سال اب تک ساڑھے5سو سے زائد بچےجاں بحق ہوچکے، رواں ماہ کے آغاز میں ہی دس مائیں اپنے لعل سے محروم چکی ہیں۔

جنوری سے ستمبر تک ساڑھے پانچ سو سے زیادہ بچے موت کی وادی میں جا سوئے، تھرواسی تو ہر گزرتے دن موت کی طرف بڑھ رہے ہیں لیکن ان کے زخموں پر مرہم رکھنے والا شاید کوئی نہیں ہے۔

دوسری جانب سندھ کا درد رکھنے والے سیاسی رہنماؤں کے عزیز تیتر کے شکار میں لگے ہوئے ہیں، اسی لیے رئیس زادے بلا روک ٹوک نایاب تیتروں کا شکار کھیل رہے ہیں۔

اسلام پور کے جنگل میں پابندی کے باوجود ان تیتروں کا شکار کیا گیا، یہ شکاری کوئی اور نہیں بلکہ ایک معروف سیاسی رہنما کے قریبی عزیز ہیں، علاقہ مکینوں کی شکایت پر پولیس نے بااثر شخصیت کو گرفتار تو کیا لیکن سیاسی مداخلت پر چھوڑ دیا گیا، مذکورہ شکاری سے پکڑے گئے اڑتیس تیتر، گاڑی اور اسلحہ تحویل میں لے لیا گیا۔

واضح رہے کہ تھر میں اس سال پھر خشک سالی اور قحط کے باعث غذائی قلت وبائی امراض میں اضافہ ہوگیا ہے، پانی اور غذا کی شدید قلت سے تنگ آکر مقامی افراد اپنے مویشیوں کے ہمراہ نقل مکانی پر مجبور ہوگئے ہیں۔

مزید پڑھیں: تھر پارکر قحط سالی سے موروں کی اموات کا سلسلہ نہ رک سکا

یہی نہیں غذائی قلت اور وبائی امراض کے باعث بچوں کی اموات کا سلسلہ بھی تاحال جاری ہے، ضلع تھرپارکر میں وائرل انفیکشنز اور غذائی قلت کا راج بدستور مسلط ہے، آئے روز مقامی سول اسپتال میں علاج کے لیے لائے جانے والے بچے مناسب سہولیات نہ ملنے کے باعث دوران علاج انتقال کر جاتے ہیں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں