The news is by your side.

Advertisement

مایہ ناز شاعر جمیل الدین عالی کا 94واں یوم پیدائش

کراچی: دوہوں اور نظموں کو پہچان دینے والے اردو ادب کے مایہ ناز شاعر، مترنم، ادیب اور نقاد جمیل الدین عالی کی 94ویں سالگرہ آج منائی جارہی ہے۔

نوابزادہ جمیل الدین احمد خان یہ کسی ریاست کے والی نہیں بلکہ شاعری کے عالی جی ہیں جنہوں نے بیس جنوری سنہ انیس سوپچیس کو دہلی کے معزز گھرانے میں آنکھ کھولی، جمیل الدین عالی اعلی تعلیم یافتہ اور قابل بینکر تھے۔

دوہے اور نظم کو انہوں نے پہچان عطا کی، عالی جگرمرادآبادی جیسے استاد کی شاگردی میں بھی رہے، وہ پاکستان سے دل وجان سے محبت کرتے تھے، سوہنی دھرتی اللہ رکھے قدم قدم آباد اور جیوے جیوے پاکستان جیسے ملی نغمے آج بھی سب کو یاد ہیں۔

جمیل الدین عالی کے والد نواب علاؤالدین احمد خان مرزا غالب کے دوست اور شاگردوں میں سے تھے،جمیل الدین عالی نے ابتدائی تعلیم دہلی سے حاصل کی ، جمیل الدین عالی 1951ء سے 1971 تک سول سروس آف پاکستان میں کام کرتے رہے

جمیل الدین عالی ایک حساس کالم نگار تھے، معاشرے کی خرابیوں اور حکومتوں کی بے حسی پر تنقید ان کے کالموں میں بکثرت پائی جاتی تھی، جمیل الدین عالی مترنم شاعر اور وثیق نقاد تھے، انہوں نے آئیس لینڈ کا طویل سفر نامہ بھی لکھا، قدرت اللہ شہاب، شعیب حزین اور ابن انشا عالی جی کے قریبی دوستوں میں شامل تھے۔

انہوں نے نہ صرف شاعری میں طبع آزمائی کی بلکہ سفرنامہ نگاری اور اخباری کالم بھی ان کی ادبی اور علمی شخصیت کی پہچان بنے، جمیل الدین عالی کو 2004 میں ہلال امتیاز 1991 میں صدارتی ایوارڈ برائے حسن کارکردگی ادبیات پاکستان کا ’’کمال فن ایوارڈ سمیت درجنوں ایوارڈ سے نوازا گیا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں