site
stats
پاکستان

کراچی: نجی اسکول کی والدین سے ناجائز رقم کی وصولی

کراچی: شہر قائد میں ایک نجی اسکول نے انوکھا کام کرتے ہوئے بارشوں کے دوران اسکول میں رکھی کتابیں اور فرنیچر خراب ہونے کی ذمہ داری والدین پر عائد کردی اور ہر والدین سے کئی ہزار روپے طلب کرلیے۔

تفصیلات کے مطابق نارتھ ناظم آباد میں واقع دی اکیڈمی اسکول میں بچوں کی کتابیں انہیں دینے کے بجائے اسکول میں ہی رکھ دی جاتی ہیں اور بچوں کو گھر لے جانے کی اجازت نہیں ہوتی۔

چند روز قبل اسکول انتظامیہ نے والدین کو طلب کیا اور دعویٰ کیا کہ بارشوں کے دوران اسکول میں رکھی ہوئی کتب اور کاپیوں سمیت فرنیچر خراب ہوگیا ہے اس لیے والدین اس ضمن رقم ادا کریں۔

انتظامیہ نے والدین کے احتجاجی ردعمل کے پیش نظر ہر بچے کے والد کے بجائے صرف والدہ کو طلب کیا اور انہیں ایک ساتھ طلب کرنے کے بجائے ایک ایک دو دو کرکے طلب کیا تاکہ احتجاج کا خدشہ کم سے کم ہوجائے اور ان پر اس بارش کا ہرجانہ عائد کردیا۔

ایک والدہ نے بتایا کہ ہمیں کئی ہزار روپے ادا کرنے کا کہا گیا ہے اور انتظامیہ نے بارش کے دوران فرنیچر، کتابیں اور کاپیاں خراب ہونے کا سارا بوجھ ہم والدین پر منتقل کرتے ہوئے ہم سے کئی ہزار روپے طلب کیے ہیں، آخر ہم یہ رقم کیوں ادا کریں؟

بچے کی والدہ نے بتایا کہ اسکول میں کئی والدین احتجاج کرتے ہوئے نظر آئے لیکن انتظامیہ نے ایک نہیں سنی، احتجاج کا مطلب اپنے بچے کو اس اسکول سے خارج کرانا ہے۔

کچھ والدین اپنے بچے کا سال ضائع ہونے کے ڈر سے یہ رقم ادا کرنے پر رضا مند نظر آئے تاہم دل سے کوئی بھی والد اس رقم کو ادا کرنے پر راضی نہیں لیکن اگر بچے کو یہاں پڑھانا ہے تو جو انتظامیہ کہے وہ کیا جائے۔

خیال رہے کہ اس اسکول میں کئی سو بچے زیر تعلیم ہیں، ہر والد سے کئی ہزار روپے طلب کیے گئے ہیں اور یہ رقم لاکھوں روپے میں بنتی ہے۔

اے آر وائی نیوز سے بات کرتے ہوئے والدین نے خدشہ ظاہر کیا کہ ممکن ہے کہ کتابیں خراب ہی نہ ہوئی ہوں یا اس قدر تعداد میں خراب نہ ہوں جتنا بتایا جارہا ہے، اگر خراب بھی ہوئی ہیں تب بھی یہ رقم ادا کرنا ہماری ذمہ داری نہیں، کتابوں کی حفاظت تو اسکول کی ذمہ داری ہے۔

والدین نے مزید کہا کہ اگر ساری کتابیں بھی خراب ہوجائیں تب بھی وہ اتنی مالیت کی نہیں ہوں گی جتنی رقم ہم تمام سیکڑوں بچوں کے والدین سے طلب کی جارہی ہے۔

والدین نے وزیر اعلیٰ سندھ، وزیر تعلیم، ڈائریکٹوریٹ آف پرائیویٹ اسکول سے نوٹس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسکول انتظامیہ کے خلاف اس ناجائز اقدام پر کارروائی کی جائے۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top