The news is by your side.

Advertisement

سعودی عرب میں غیرملکیوں کیلئے خطرے کی گھنٹی

ریاض: سعودی عرب میں غیرملکیوں کے لیے ملازمت کے دروازے آہستہ آہستہ بند ہونے لگے، حکومت نے سعودائزیشن سے متعلق نئی حکمت عملی تیار کرلی۔

عرب میڈیا کی رپوٹ کے مطابق سعودی عرب کی وزارت محنت وسماجی بہبود نے سعودائزیشن سے متعلق 20 نئے فارمولے تیار کیے ہیں، جس کے بعد مملکت میں مقیم غیرملکیوں کو شدید خدشات ہیں، انہیں ڈر ہے کہ آہستہ آہستہ سعودی عرب کے دیگر ملازمتی شعبے سے بھی انہیں فارغ کردیا جائے گا۔

وزارت محنت و سماجی بہبود نے سعودائزیشن کی رفتار اور تعداد بڑھانے کے لیے 20 نئے فارمولے تیار کیے ہیں جس کا اعلان جلد کیا جائے گا۔ تاہم اب تک یہ واضح نہیں ہوسکا کہ اس فارمولے کے تحت مزید غیرملکی ملازمین سے نوکریاں چیھن لی جائیں گی یا نہیں۔ البتہ انتطامیہ کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد نجی اداروں اور کمپنیوں میں کام کے ماحول کو بہتر بنانا ہے۔

سعودی عرب میں خواتین مردوں پر سبقت لے گئیں

نئے فارمولے کے تحت سعودی عرب کے مقامیوں کی افرادی قوت ملازمت کے شعبوں میں بڑھائی جائے گی۔ اور نئی پالیسیاں بھی سامنے آسکتی ہیں جس کا اعلان جلد کیا جائے گا۔ نئی حکمت عملی کے تحت اس بات کا اہتمام کیا جائے گا کہ نجی اداروں کو اپنے یہاں زیادہ سے زیادہ سعودی رکھنے کے لیے ترغیبات دی جائیں۔

خیال رہے کہ وژن 2030 کے تحت سعودی عرب میں خواتین کی نمائندگی اور ملازمت کے تمام شعبوں میں کردار نمایاں نظر آرہا ہے۔ سعودی عرب میں ملازمت کے مختلف شعبوں میں خواتین بڑھ چڑھ کرحصہ لے رہی ہیں جبکہ سعودائزیشن کے تحت بھی عورتوں کو بھرپور مواقع فراہم کیے جارہے ہیں۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں