پیر, جون 8, 2026
اشتہار

نیب کی تاریخ کی سب سے بڑی ریکوری

اشتہار

حیرت انگیز

اسلام آباد(18 مارچ 2026): قومی احتساب بیورو (نیب) نے اپنی گزشتہ تین سالہ کارکردگی رپورٹ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف میں پیش کر دی ہے، جس کے مطابق ادارے نے 115 کھرب روپے سے زائد کی تاریخی ریکوری کی ہے۔

رپورٹ کے مطابق نیب نے غیر معمولی کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ادارے پر خرچ ہونے والے ہر ایک روپے کے بدلے 629 روپے قومی خزانے میں واپس جمع کروائے۔

دستاویزات کے مطابق 48 لاکھ 50 ہزار ایکڑ سرکاری زمین واگزار کروا کر 110 کھرب روپے کی قومی بچت کی گئی، جبکہ ہاؤسنگ سوسائٹیز کے 1 لاکھ 29 ہزار متاثرین کو 213 ارب روپے واپس دلائے گئے۔ اس کے علاوہ منی لانڈرنگ کے خلاف کارروائیوں میں 85 ارب 40 کروڑ روپے کے اثاثے منجمد کیے گئے۔

نیب نے احتساب کے عمل کو مزید موثر بنانے کے لیے کئی اہم تجاویز اور چیلنجز کی نشاندہی کی ہے، 50 کروڑ روپے سے کم کی کرپشن پر ایکشن نہ لینے کی پابندی کو احتساب میں بڑی رکاوٹ قرار دیا گیا ہے۔

تجویز دی گئی ہے کہ کرپشن کیسز میں ملزم کا "ذاتی فائدہ” ثابت کرنے کی شرط ختم کی جائے، بلکہ قومی خزانے کو نقصان پہنچانے پر ہی سزا دی جانی چاہیے۔

دستاویزات کے مطابق 100 سے کم متاثرین والے دھوکہ دہی کے کیسز نیب کے دائرہ اختیار سے باہر ہونے اور انفرادی بیانات ریکارڈ کرنے کی شرط کو کیسز میں تاخیر کی بڑی وجہ قرار دیا گیا ہے۔

دستاویزات کے مطابق ملک بھر میں 23 میں سے صرف 16 احتساب عدالتیں فعال ہیں جبکہ ایک ریفرنس کا فیصلہ ہونے میں اوسطاً 6 سال کا عرصہ لگ رہا ہے۔ نیب نے 2025 کے اعداد و شمار بتاتے ہوئے کہا کہ 58 فیصد کیسز میں ملزمان کو سزائیں ہوئیں جبکہ 42 فیصد رہا ہوئے۔

کفایت شعاری مہم کے تحت نیب نے 238 اسامیاں ختم کر کے 66 کروڑ روپے کا بجٹ بھی واپس کیا۔نیب نے اعلان کیا ہے کہ اب کرپشن کی تحقیقات کے لیے آرٹیفیشل انٹیلی جنس ٹولز کا استعمال کیا جائے گا اور بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے بنائے گئے خصوصی سیل کو مزید فعال بنایا جائے گا۔

+ posts

اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں