The news is by your side.

Advertisement

!جو سو گیا وہ مر گیا

رات کی نیند انسانی جسم اور دماغ کو تازہ دم کرنے اور تھکن دور کرنے کے لیے ایک لازمی شے ہے۔ تاہم ایک 17 سالہ نوجوان ایسا بھی ہے، جو اگر سو گیا تو اس کی موت واقع ہوسکتی ہے۔

برطانیہ کا رہائشی یہ نوجوان لیام ایک نہایت کمیاب بیماری سینٹرل ہائیپو وینٹی لیشن سنڈروم کا شکار ہے۔ اس بیماری کا شکار افراد کے لیے نیند ایک جان لیوا خطرے کی صورت میں سامنے آتی ہے۔

یہ انوکھا مرض دنیا بھر میں صرف 15 سو افراد کو لاحق ہے۔ اس مرض میں جب مریض سوجاتا ہے تو اس کے پھیپھڑے کام کرنا چھوڑ دیتے ہیں اور یوں سانس رکنے سے وہ ہلاک ہوجاتا ہے۔

اگر موت واقع نہ بھی ہو تب بھی سانس میں خلل دل، بلڈ پریشر اور دماغ کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا سکتا ہے۔

ایسے مریضوں کو نیند کی لازمی سہولت فراہم کرنے کے لیے انہیں لائف سپورٹنگ سسٹم سے منسلک کرنا پڑتا ہے۔

لیام بھی اسی مرض کا شکار ہے اور یہ واحد مسئلہ نہیں جو اسے لاحق ہے۔ جب وہ پیدا ہوا تو ڈاکٹرز پر انکشاف ہوا کہ اس کے جسم میں بڑی آنت کا ایک حصہ موجود ہی نہیں جس کے بعد لیام سے کھانا ہضم کرنے اور رفع حاجت کے لیے ایک مصنوعی بیگ منسلک کیا گیا ہے۔

کم کے والد پیٹر کہتے ہیں کہ ایک ایسی اولاد کا ہونا کسی آزمائش سے کم نہیں جسے موت جکڑنے کے لیے ہر وقت اپنا پنجہ بڑھائے ہوئے ہے۔

وہ کہتے ہیں، ’میں لیام کی پیدائش سے آج تک ایک بھی رات سکون سے نہیں سو پایا۔ میں راتوں کو اٹھ کر اس کی لائف سپورٹنگ مشین چیک کرتا ہوں کہ آیا وہ سانس لے رہا ہے یا نہیں۔ ہم نہیں جانتے کہ جب ہم رات میں اسے شب بخیر کہتے ہیں، تو شاید وہ اس کی آخری شب ہو‘۔

ان تمام مشکلات کے باجود لیام اسکول جاتا ہے اور تعلیم حاصل کر رہا ہے۔ اسے ڈرائنگ کرنا پسند ہے اور وہ بہت سے کھیل بھی کھیلتا ہے۔

ڈاکٹرز کی توقعات کے برعکس وہ اپنی زندگی کے 17 سال مکمل کرچکا ہے جو یہ سمجھتے تھے کہ وہ 6 ماہ سے زیادہ نہیں جی سکے گا۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں