The news is by your side.

سندھ حکومت اور بلدیاتی اداروں کے دعوے دھرے رہ گئے

کراچی: شہرقائد میں موسلادھار بارش کے بعد اہم شاہراہوں پر پانی تاحال موجود ہے، سندھ حکومت اور بلدیاتی اداروں کے دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے۔

تفصیلات کے مطابق رین ایمرجنسی کے باوجود اہم شاہراہوں سے عملہ غائب ہے، جبکہ ضلع وسطی کی شاہراہوں پر پانی کی نکاسی نہ ہوسکی۔ فائیو اسٹار چورنگی، لنڈی کوتل اور حیدری ودیگر علاقوں میں پانی اب بھی سڑکوں پر جمع ہے۔

پانی جمع ہونے کے باعث ٹریفک کی روانی بھی شدید متاثر ہورہی ہے۔

دوسری جانب بارش کے بعد شہر میں بجلی کا نظام درہم برہم ہوگیا، مختلف مقامات پر پانی جمع ہونے کی وجہ سے بجلی بحال نہیں ہوسکی۔ کے الیکٹرک نےصارف کو ااطلاع دیے بغیر بجلی بند کرنا شروع کردی۔

اورنگی ٹاؤن میں کتنی بارش ہوئی؟ محکمہ موسمیات لاعلم

کراچی کے علاقے اورنگی، منگھوپیر، نارتھ کراچی، گلبرگ، خواجہ اجمیر نگری، موسیٰ کالونی، غریب آباد، بنارس، سرجانی، تیئسر ٹاون، کاٹھور، گلشن معمار، احسن آباد، سہراب گوٹھ،عزیز آباد، ایف بی ایریا اور کورنگی کے مختلف علاقوں کو بھی بجلی کی فراہمی معطل ہے۔

ادھر کے الیکٹرک کے ترجمان کا کہنا ہے کہ مشکل حالات کے باوجود کے الیکٹرک عملہ 24 گھنٹے کام کررہا ہے، کئی مقامات پر پانی جمع ہونے سےکام میں دشواری کا سامنا ہے، کے الیکٹرک کی تنصیبات اور زیر زمین نیٹ ورک سسٹم بھی متاثر ہے۔

ترجمان کے مطابق نارتھ ناظم آباد، گلشن اقبال اور پی ای سی ایچ ایس میں تکنیکی خرابیاں دور کردی گئیں، جبکہ مقامی فالٹس کوغیراعلانیہ لوڈشیڈنگ ظاہر کرنا نامناسب ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں