The news is by your side.

Advertisement

دمہ کی عام سی دوا کورونا کے خلاف ‘ہتھیار’ بن گئی

طبی تحقیق میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ دمہ کی بیماری کے لیے استعمال ہونے والی عام سی دوا کوروناوائرس کے خلاف مؤثر ہوکر مریض کو فائدہ پہنچا سکتی ہے۔

برطانیہ کی آکسفورڈ یونیورسٹی میں ہونے والی تحقیق کے مطابق بڈیسونائیڈ (Budesonide) نامی دوا جو عموماً دمہ کے مریضوں کو دی جاتی ہے، یہ کورونامریضوں میں صحت یابی کا عمل تیز اور اسپتال میں زیرعلاج رہنے کا دورانیہ کم کرسکتی ہے۔ اس حوالے سے ماہرین نے نتائج جاری کردیے۔

محققین کا کہنا ہے کہ بڈیسونائیڈ کورونامریضوں کو صحت یابی کے لیے مدد فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے، کوروناعلامات سامنے آنے کے بعد 7 دن کے اندر فراہم کیا جائے تو یہ جلد صحتیابی میں مددگار ثابت ہوگی۔

رپورٹ کے مطابق Budesonide کو تمباکو نوشی سے متاثر پھیپھڑوں کے علاج کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔

ماہرین نے اس تحقیق میں 146 مریضوں پر مشاہدہ کیا جس سے دریافت ہوا کہ اس دوا کے بروقت استعمال سے مریض کے انتہائی نگہداشت وارڈ یا اسپتال میں داخلے کا خطرہ 90 فیصد تک کم ہوجاتا ہے۔

ایک عام سی دوا کرونا مریض کو موت سے بچا سکتی ہے

محققین کا کہنا تھا کہ تحقیق میں شامل جن رضاکاروں کا علاج آغاز سے ہی بڈیسونائیڈ سے کیا گیا، ان میں بخار پر تیزی سے قابو پالیا گیا اور بہت کم علامات کا تسلسل نظرآیا جو خوش آئند امر ہے۔

یاد رہے کہ گزشتہ سال اکتوبر میں امریکا کی یونیورسٹی آف میری لینڈ اسکول آف میڈیسین میں ہونے والی تحقیق میں دریافت ہوا تھا کہ اگر کرونا کے مریض کم مقدار میں اسپرین کا استعمال کریں تو ان میں مہلک وائرس کی پیچیدگیاں اور موت کے خطرات کم ہوسکتے ہیں۔

تحقیق میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ وہ کرونا مریض جو اسپرین کا استعمال کرتے رہے ہیں ان کے آئی سی یو یا وینٹی لیٹر تک پہنچنے کے امکانات دیگر مریضوں کے مقابلے میں کم ہوتے ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں