The news is by your side.

Advertisement

وفاق نےصوبوں سے مشاورت کے بغیر آئی ایم ایف شرط مان لی

وفاقی حکومت نےصوبوں سے مشاورت کے بغیر آئی ایم ایف شرط مان لی۔

بجٹ میں صوبوں سے 800 ارب روپےسرپلس کی آئی ایم ایف کی شرط وفاقی حکومت نے مان لیں۔ وفاقی حکومت نےآئی ایم ایف شرائط پر مبنی معاہدہ صوبوں کو بھیج دیا ہے۔

کےپی حکومت نے آئی ایم ایف کےلیےصوبوں کو بھیجے جانے والے ایم او یو پر اعتراضات اٹھائے ہیں۔ اس سلسلے میں وزیرخزانہ کےپی تیمور سلیم جھگڑا نے وزیرخزانہ مفتاح اسماعیل کو جوابی خط لکھ دیا ہے۔

خط کے مطابق افسوس ہےصوبوں سےمتعلق آئی ایم ایف شرائط پرہمیں اعتمادمیں نہیں لیاگیا معاہدےپردستخط سے پہلے چاہتےہیں وفاق کےپی کےمالی مسائل حل کرے جب کہ وفاق سابق فاٹا کے عوام کیلئےصحت کارڈ پروگرام اور فنڈزیقینی بنائے۔

خط میں کہا گیا ہے کہ نئےمالی سال کےبجٹ میں وفاق قبائلی اضلاع کے فنڈز کا انتظام کرے سابق فاٹا کا بجٹ پہلے ہی 77ارب سےکم کر کے 60 ارب کر دیا گیا تھا، وفاق کےپی معاہدےکےمطابق خیبرپختونخوا کو قومی ہیلتھ پروگرام فنڈز دیاجائے۔

خط کے مطابق وفاقی حکومت پہلےہی معاہدےکی خلاف ورزی کرتےہوئےفنڈزروک چکی ہےوفاق کی جانب سے کےپی کوقومی ہیلتھ پروگرام کےماہانہ3ارب ملتےتھے وفاقی حکومت این ایف سی ایوارڈ کو فوری بحال کرے، کےپی کو 1998کی مردم شماری کی بنیادپراین ایف سی سےحصہ دیا جا رہا ہے، کےپی کوقبائلی اضلاع کےانضمام کے بعد کی آبادی پرفنڈزفراہم نہیں کیےجارہے صوبےکابجٹ پورا ہو گا تو ہی آئی ایم ایف شرائط کو تسلیم کرناممکن ہو گا۔

اے آر وائی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر خزانہ تیمور جھگڑا نے کہا کہ سندھ نے 35 ارب اور بلوچستان نے 100 ارب خسارےکابجٹ دیا وفاقی حکومت سےبجٹ کیلئےپیسےنہ ملےتوایسامعاہدہ مذاق ہو گا بجٹ کے معاملات پر سیاست نہیں کرنی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ مفتاح اسماعیل حامی بھرتےہیں اگلےدن وفاق سےالگ پیغام آتاہے ریفارم کرنی ہے تو ملک کیلئے وفاقی حکومت سےبھی بات کریں گے بجٹ میں ہم جتنےبھی پیسے بچا سکتے تھے بچائے ہیں کےپی حکومت کےبجٹ میں بہت سےعوام دوست اقدامات ہیں، کفایت شعاری کیلئے بھی کےپی حکومت نےکئی اقدامات اٹھائے قبائلی اضلاع کے بجٹ میں کٹوتی کی گئی جس پربہت افسوس ہوا قبائلی اضلاع کا حصہ تو ہر سال 20 فیصد بڑھنا چاہیے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں