The news is by your side.

Advertisement

خلا میں قدم رکھنے والا پہلا انسان دنیا سے رخصت ہوگیا

ماسکو : خلا میں چہل قدمی کرنےوالے پہلے انسان روسی خلا باز الیگزے لیونوف 85 سال کی عمر میں چل بسے۔

تفصیلات کے مطابق روسی خلا باز الیگزے لیونوف طویل عرصے سے علیل جو گزشتہ روز علالت کے باعث دنیا سے چل بسے۔، روسی خلائی ایجنسی روسکوسموس اسپیس کارپوریشن نے روسی خلا باز کی جمعے کے روز موت کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ وہ موت الیگزے لیونوف طویل عرصے سے شدید بیمار تھے۔

اگرچہ لیونوف چاند پر قدم رکھنے پہلے آدمی نہیں تھے (ایک مقصد جس کے بارے میں وہ شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکا) اس نے امریکا اور سوویت یونین کے مابین خلائی دوڑ میں پہلے شخص تھے جس نے 18 مارچ 1965 کو ووسخود 2 کیپسول سے باہرآکر 12 منٹ تک خلاء میں چہل قدمی کی تھی۔

دوسری جانب خلا ء چہل قدمی کرنے والے پہلے امریکیایڈ وائٹ 1965 میں جون تک ایسا نہیں کرپائے تھے۔

واضح رہے کہ یہ چہل قدمی ہوا میں معلق یا تیرتے رہنے جیسی تھی۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق سنہ 1975 میں اپولو سائوز مشن کے دوران الیگزے لیونوف کی خلاء میں امریکی خلاباز سے ملاقات ہوئی تھی، یہ پہلا موقع تھا جب سوویت اور امریکی خلابازوں میں خلاء میں ایک دوسرے سے تعاون کیا تھا۔

لیونوف ایک مشہور فنکار بھی تھے جو زمین کے نظارے کو خاکے کی صورت میں ڈھالنے کےلیےرنگین پنسلیں بھی خلا میں لے کر گئے تھے،اس کی طلوع آفتاب کی ڈرائنگ کو خلا میں تخلیق کردہ فن کا پہلا ٹکڑا سمجھا جاتاہے۔

الیگزے لیونوف کا نام تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھا جائےگا کیونکہ وہ پہلے انسان تھے جس نے خلا میں قدم رکھاتھا۔

ان کے خلا میں 12 منٹ تک رہنے کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ وہ خلائی گاڑی کے کیبل میں پھنس گئے تھے اس دوران بڑی مشکل سے واپس خلائی گاڑی میں آنے میں کامیاب ہوئے تھے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا الیگزے لیونوف کی آخری رسومات 15 اکتوبر کو ماسکو کے قریب واقع میتشچی ملٹری میموریل قبرستان میں ادا کی جائے گی۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں