مہاجرین کی امداد کرنے والا جرمن ڈاکٹر خود مسائل کا شکار ہوگیا German doctor
The news is by your side.

Advertisement

مہاجرین کی امداد کرنے والا جرمن ڈاکٹر خود مسائل کا شکار ہوگیا

برلن : جرمن ڈاکٹرگیرہارڈ پر خانہ جنگی کا شکار شامی شہریوں کی مدد کرنے کے عوض لاکھوں یورو جرمانہ عائد کردیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق خانہ جنگی کے شکار ملک میں جرمنی سے تعلق رکھنے والے طبی رضاکار ڈاکٹر گیر ہارڈنےخانہ جنگی کے متاثرین شامی شہریوں کو جرمنی میں پناہ دلوائی تاکہ انہیں محفوظ زندگی گزارنے کا موقع فراہم کیا جاسکے۔

مقامی خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر گیرہارڈ اپنی طبی ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ جرمنی میں پناہ گزیر شامی تارکین وطن کی کفالت کی ذمہ داری بھی انجام دے رہے ہیں۔

مقامی میڈیا کا کہنا ہے کہ شامی مہاجر گیرجس سمیت سات دیگر افراد کو جرمن حکومت کی جانب سے پناہ دی جاچکی ہے تاہم حکومت کی جانب سے اب ان مہاجرین کے اخراجات اٹھانے کےلیے رحم دل ڈاکٹر کو بل ارسال کیے جارہے ہیں۔

ڈاکٹر گیرہارڈ کو حکومت کی طرف سے ارسال کیے جانے والے بل کی رقم 1 لاکھ ساٹھ ہزار یورو بنتی ہے۔

مقامی خبر رساں ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے شامی مہاجر گیر جس باہو کا کہنا تھا کہ ہم حالت جنگ میں تھے ، میں ڈاکٹر گیرہارڈ کا ہمیشہ شکر گزار رہے گا۔

مقامی خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ جرمنی میں اس وقت 7ہزار کے قریب شامی مہاجرین کی کفالت کرنے والے افراد کو حکومت کی جانب سے اخراجات کے بل بھیجے جارہے ہیں۔

ڈاکٹر گیر ہارڈ نے خبر رساں ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مجھےاس پر کوئی افسوس نہیں ہے اور دوبارہ متاثرین کی امداد کرنے کا موقع ملا تو پھر مدد کروں گا۔

ان کا کہنا تھا کہ میں اس عمل کو اپنی اور معاشرےکی ذمہ داری سمجھتا ہوں کہ جنگ سے متاثر ہونے والے افرا د کی مدد کی جائے۔

جرمن ڈاکٹر پُر امید ہیں کہ انہیں حکومت کی جانب سے جاری کیے گئے بل ادا نہیں کرنے پڑے گیں اور حکومت اپنے شہریوں پر انسانی حقوق کی پاسداری کرنے پر اضافی بوجھ نہیں ڈالے گی۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں